تہران Tehran میں ایک بار پھر زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق دھماکے شدید نوعیت کے تھے تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
اس رائ ی لی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں ایران کے درجنوں ملٹری کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) کے ہیڈکوارٹرز اور ایئر فورس کمانڈ سینٹر شامل ہیں۔ ایران کی وزارت داخلہ کے ہیڈکوارٹرز پر بھی نئے حملے کیے گئے ہیں۔
تاحال ایرانی حکام یا سرکاری میڈیا کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب اس رائ ی لی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ تہران میں حملوں میں مزید شدت لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج ایران کے خلاف اپنی مہم میں ابھی "مکمل طاقت” استعمال نہیں کر رہی اور آئندہ دنوں میں فضائی حملے تیز کیے جائیں گے۔
قطری نشریاتی ادارے Al Jazeera کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے آج ملک بھر میں 10 جدید ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اب تک گرائے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 22 ہو گئی ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ وقت بھرپور مزاحمت کا ہے اور ایران ہر ممکن طاقت سے جوابی کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک ایران نے اپنی جدید ترین فوجی صلاحیتیں، بشمول بعض جدید میزائل سسٹمز، استعمال نہیں کیے۔ انہوں نے امریکا اور دوسرے دشمن کو متنبہ کیا کہ آئندہ دنوں میں دشمن کو بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


