ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی رضا اعرافی کو عبوری قیادت کونسل کا فقیہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ کونسل عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دے گی اور علی رضا اعرافی اس عبوری کونسل کے رکن کے طور پر ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض سنبھالیں گے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس تین رکنی کونسل میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی چیف جسٹس بھی شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان رہبری کی جانب سے نیا سپریم لیڈر منتخب ہونے تک یہ کونسل رہبر کے فرائض سرانجام دیتی رہے گی۔
اس سے قبل ایرانی ریاستی ٹی وی نے آیت اللہ خامنہ آئی، علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے کمانڈر محمد پاکپور کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کا عہدہ خالی یا غیر فعال ہونے کی صورت میں آئین کے تحت تین رکنی عبوری کونسل قائم کی جاتی ہے، جو فوری طور پر تمام ریاستی فرائض سنبھالتی ہے۔
اس کونسل میں موجودہ صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان کونسل کا ایک منتخب فقیہ شامل ہوتا ہے۔
عبوری کونسل کے ارکان
اطلاعات کے مطابق عبوری کونسل میں اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیان اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژهای شامل ہیں، جبکہ تیسرا رکن نگہبان کونسل کے منتخب فقیہ کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔
ایرانی آئین کے مطابق یہ کونسل عارضی طور پر ریاستی امور چلائے گی، تاہم نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار 88 رکنی مجلس خبرگان کے پاس ہوگا، جو منتخب شیعہ علماء پر مشتمل ہے۔
مجلس خبرگان کے ارکان ہر آٹھ سال بعد عوامی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں اور ان کی اہلیت کی تصدیق نگہبان کونسل کرتی ہے۔
جانشینی کا عمل اور ممکنہ امیدوار
رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل عوامی نظروں سے دور اور پیچیدہ آئینی مشاورت کے تحت انجام پاتا ہے، جس کے باعث ممکنہ امیدواروں کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
ماضی میں سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی کو ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا، تاہم وہ مئی 2024 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
اب بعض حلقوں میں سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بھی زیرِ بحث آ رہا ہے، اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی باضابطہ سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔
ممکنہ جانشینوں کے نام
ایرانی ذرائع کے مطابق زیرِ غور شخصیات میں شامل ہیں:
- مجتبیٰ خامنہ ای – سپریم لیڈر کے صاحبزادے، بعض طاقتور حلقوں میں اثر رکھتے ہیں۔
- علی رضا اعرافی – قم کے جمعہ خطیب اور دینی مدارس کے سربراہ۔
- محمد مہدی میر باقری – سخت گیر نظریات کے حامل عالمِ دین۔
- حسن خمینی – بانیٔ انقلاب کے نواسے، نسبتاً اصلاح پسند سمجھے جاتے ہیں۔
- غلام حسین محسنی ایجئی – موجودہ چیف جسٹس، عدالتی نظام میں مضبوط حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخی پس منظر
ایران میں سپریم لیڈر کے منصب پر یہ دوسری مرتبہ قیادت کی منتقلی کا مرحلہ ہے۔
اس سے قبل 1989 میں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد یہ عمل مکمل ہوا تھا، جس کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای منصب پر فائز ہوئے تھے اور تقریباً 37 برس تک قیادت کرتے رہے۔
Large crowd of people in Isfahan hit streets to mourn Leader of Islamic Revolution martyrdom pic.twitter.com/wpofOyCJgu
— Press TV 🔻 (@PressTV) March 1, 2026
یہ بھی پڑھئِے
حالیہ پیش رفت اسرائیل کی جانب سے جون 2025 میں ایران کے خلاف مبینہ 12 روزہ جنگ کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال مزید غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔


