اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دارالحکومت میں سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے موٹر سائیکلوں کی باقاعدہ ڈیجیٹل ٹیگنگ شروع کر دی ہے۔

حکام کے مطابق ایم ٹیگ لگانے کی مہم کا آغاز 20 فروری سے کیا گیا اور ابتدائی تین روز میں 2 ہزار سے زائد موٹر سائیکلوں پر ٹیگ نصب کیے جا چکے ہیں۔
ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلال اعظم کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شہر میں چلنے والی تمام موٹر سائیکلوں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ دستیاب ہوگا، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری شناخت اور ٹریکنگ میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق اب تک 2 لاکھ 33 ہزار سے زائد گاڑیوں پر بھی ایم ٹیگز لگائے جا چکے ہیں۔
ایم ٹیگ کہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
انتظامیہ نے شہریوں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر رجسٹریشن پوائنٹس قائم کیے ہیں، جن میں جناح پارک (F-9)، پولیس چیک پوسٹ (G-14)، گلبرگ گرین، ملپور، فیض آباد، گندم گودام نزد تھانہ سبزی منڈی، دامنِ کوہ (مری روڈ کے قریب)، ٹیولپ ہوٹل، روات ٹی کراس، نائنتھ ایونیو اور مارگلہ ایونیو شامل ہیں۔
شہری اپنی سہولت کے مطابق ان مراکز پر جا کر چند منٹوں میں ایم ٹیگ حاصل کر سکتے ہیں۔
ایم ٹیگ کے فوائد
حکام کے مطابق اس نظام کا بنیادی مقصد امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا، چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی فوری نشاندہی کرنا اور جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف شہری نگرانی کا نظام مضبوط ہوگا بلکہ ٹریفک مینجمنٹ میں بھی بہتری آئے گی۔
رجسٹریشن کا طریقہ کار اور فیس
ایم ٹیگ حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو اپنی موٹر سائیکل کے رجسٹریشن کاغذات اور اصل شناختی کارڈ ساتھ لانا ہوگا۔ موقع پر تصدیق کے بعد ٹیگ جاری کر کے موٹر سائیکل کے اسپیڈو میٹر پر چسپاں کر دیا جائے گا۔
ڈائریکٹر ایکسائز کے مطابق ایم ٹیگ کی قیمت 250 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ ٹیگ واٹر ریزسٹنٹ اور موسمی اثرات سے محفوظ ہے، جس پر بارش، گردوغبار یا دیگر حالات کا اثر نہیں پڑے گا۔
خلاف ورزی پر کارروائی
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد بغیر ایم ٹیگ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے،۔
جس میں جرمانہ یا موٹر سائیکل ضبط کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بروقت رجسٹریشن مکمل کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔


