امریکی قانون سازوں کی جانب سے سزا یافتہ جنسی مجرم اور فنانسر Jeffrey Epstein سے متعلق 20 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات کے اجرا کے بعد دنیا بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
ایپسٹین اگرچہ اب زندہ نہیں، لیکن ان کی ای میلز اور نجی روابط کی تفصیلات نے ایک بار پھر عالمی شخصیات کے ساتھ ان کے تعلقات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ان دستاویزات میں کئی معروف سیاسی اور سماجی شخصیات کے نام منظر عام پر آچکے ہیں جن میں موجودہ امریکی صدر Donald Trump، سابق پاکستانی وزیر اعظم Imran Khan، سیاسی حکمتِ عملی ساز Steve Bannon اور برطانوی شاہی خاندان کے رکن Prince Andrew شامل ہیں۔
تاہم یہ واضح ہے کہ محض کسی ای میل یا گفتگو میں نام کا آ جانا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں شمولیت کا ثبوت نہیں ہوتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلقات اور ردعمل

جاری شدہ ای میل ریکارڈز میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر بڑی تعداد میں پایا گیا ہے۔ امریکی اخبار The Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں ای میل سلسلوں میں سے بڑی تعداد میں ٹرمپ کا حوالہ موجود ہے۔
ماضی میں دونوں کے دوستانہ اور گہرے تعلقات رہے، تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے اور ایپسٹین کے راستے 2004 کے قریب جدا ہو گئے تھے، یعنی ایپسٹین کی پہلی قانونی گرفتاری سے قبل ان کے درمیان تعلق ختم ہو گئے تھے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری Karoline Leavitt نے دعویٰ کیا کہ ای میلز کو مخصوص سیاسی بیانیہ بنانے کے لیے لیک کیا گیا۔ ٹرمپ مسلسل اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی غیر قانونی عمل میں ملوث تھے۔
عمران خان ایک خطرہ ہے
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام بھی جعفری ایپسٹین کی ایک ای میل گفتگو میں سامنے آیا ہے، جو جولائی 2018 کی ہے۔
اس خط و کتابت میں ایران، روس، ترکی اور امریکہ کی سیاست پر تبادلہ خیال کے دوران عمران خان کو ایک ’خطرہ‘ قرار دیا گیا۔ یہ ذکر عالمی رہنماؤں کے تقابل کے پس منظر میں آیا تھا۔
پاکستان میں تحریک انصاف کے حامیوں نے اس تذکرے کو منفی کے بجائے مثبت انداز میں لیا اور کہا کہ عالمی سطح پر اس نوعیت کی گفتگو عمران خان کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی سلسلے میں ان کی سابق اہلیہ Reham Khan نے واضح کیا کہ ان کا ایپسٹین یا اس کے سماجی حلقے سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔
صحافی، ماہرین اور کاروباری شخصیات
دستاویزات میں امریکی صحافی Michael Wolff کا نام بھی سامنے آیا، جو اپنی کتاب Fire and Fury کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔ ای میلز سے عندیہ ملتا ہے کہ وولف اور ایپسٹین کے درمیان ٹرمپ سے متعلق گفتگو ہوئی تھی۔ وولف نے بعض ای میلز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موضوع پر پہلے بھی بات کرنا چاہتے تھے۔
اسی طرح سابق امریکی وزیر خزانہ Larry Summers کے ساتھ ایپسٹین کی خط و کتابت کا ذکر ہے، جس میں ملاقاتوں اور عالمی شخصیات سے تعارف کا تبادلہ خیال شامل تھا۔ سمرز اس سے قبل ایپسٹین سے تعلق پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔
مزید برآں معروف ماہرِ لسانیات Noam Chomsky، سرمایہ کار Peter Thiel اور سابق وائٹ ہاؤس وکیل Kathryn Ruemmler کے نام بھی مختلف ای میل گفتگوؤں میں شامل ہیں۔
اگرچہ ان میں سے بیشتر تبادلے عمومی یا سیاسی نوعیت کے تھے، مگر ان روابط نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
بحث اور قیاس آرائیاں
ایپسٹین فائلز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سازشی نظریات اور سیاسی مباحث میں تیزی آ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کے پیچیدہ جال کی عکاسی کرتی ہیں۔ دوسری جانب قانونی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ محض ذکر ہونا کسی جرم کا ثبوت نہیں ہوتا۔
ایپسٹین کی زندگی کا باب بند ہو چکا ہے، لیکن ان کے روابط کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہر نئی دستاویز ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے اور عالمی سیاست میں اس کے اثرات پر سوالات بدستور قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے


