سوشل میڈیا پر ایک نئی چیز وائرل ہونا شروع ہوئی ’کشمیری چوڑیاں‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود کشمیر سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ بھی ان چوڑیوں سے لاعلم نکلے۔
لیکن جیسے جیسے عید الفطر قریب آئی، یہ چوڑیاں ہر لڑکی کی پہلی پسند بن گئیں اور بازاروں میں ان کی قیمت اور مانگ آسمان کو چھونے لگی۔
ان چوڑیوں کی خاص بات صرف رنگین کانچ کی چوڑیاں نہیں بلکہ ان کے ساتھ پہننے والی گھنگرو والی دھاتی چوڑیاں ہیں، جن کی چھنک اور اسٹائل نے سب کو دیوانہ بنا دیا ہے۔ انہیں بعض جگہ ’رین ڈراپ چوڑیاں‘ بھی کہا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک اور انسٹاگرام نے اس ٹرینڈ کو آگ لگا دی۔ انفلوئنسرز اور اداکاراؤں، خاص طور پر اداکارہ مایا علی کے بسنت لک کے بعد یہ چوڑیاں تیزی سے وائرل ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر لڑکی کی خواہش بن گئیں۔
جہاں عام دنوں میں یہ چوڑیاں 200 سے 500 روپے تک مل جاتی تھیں، وہیں عید کے قریب ان کی قیمت 1500 سے 2500 روپے تک پہنچ گئی۔ کچھ جگہوں پر تو اس سے بھی زیادہ قیمت مانگی جا رہی ہے، جس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ اور سوشل میڈیا ہائپ ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ نہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور نہ ہی بھارت کے کشمیر میں ان چوڑیوں کا کوئی روایتی یا ثقافتی تعلق پایا گیا۔ یعنی ’کشمیری چوڑیاں‘ کا نام زیادہ تر ایک مارکیٹنگ ٹرک ثابت ہوا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ جو لڑکیاں یہ چوڑیاں خرید نہیں سکتیں، وہ خود گھر پر بنانے کی ویڈیوز دیکھ کر اپنی چوڑیاں تیار کر رہی ہیں۔
آخر میں بات یہی ہے کہ چاہے یہ واقعی کشمیری ہوں یا نہیں، لیکن اس عید پر یہ چوڑیاں فیشن کا سب سے بڑا ٹرینڈ بن چکی ہیں — اور ہر کوئی انہیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئیں


