قصور میں پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی پرسنل سیکرٹری صائمہ فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا ہے کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے پولیس تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
Dear Citizen,
A girl aged about 21/22 years, resident of Ellahabad, Kasur, committed suicide allegedly due to blackmailing and a relationship with her neighbour. In this regard, a FIR has been registered at Police Station Ellahabad. The accused has been arrested by the police.… https://t.co/gyc4VKUq5X— Chief Minister’s Complaint Cell (@CMComplaintCell) February 26, 2026
پولیس حکام کے مطابق ملزم کا موبائل فون قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے Punjab Forensic Science Agency بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن کی نگرانی میں جاری ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر قصور، محمد عیسیٰ خان نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ گرفتاری کے بعد ملزم کے موبائل فون کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ چیٹس ڈیلیٹ کر چکا تھا۔ ان کے بقول ملزم کی جانب سے ڈیٹا حذف کرنا اس کے خلاف اہم شہادت ہے اور فرانزک لیبارٹری سے ڈیٹا ریکور کیے جانے کی امید ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کرائم سین یونٹ اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔
ابتدائی طور پر مزمل شہزادی کے والد محمد شفیع نے پولیس کو تحریری بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی نے خودکشی کی اور وہ کسی قسم کی کارروائی نہیں چاہتے۔
تاہم پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے نعش کا پوسٹ مارٹم کرایا اور جسمانی نمونے فرانزک تجزیے کے لیے لاہور بھجوا دیے تاکہ قانونی تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔
بعد ازاں 17 فروری کو مزمل شہزادی کے بھائی شفقت علی نے ملزم اور اس کے والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی، جس پر پولیس نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کر کے ایس پی انویسٹی گیشن محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی۔
پولیس ترجمان کے مطابق ملزم کو جمعہ کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب ملزم کے والد نے عدالت سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے جبکہ عدالت نے انہیں شاملِ تفتیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
کوہاٹ : وارڈ میں معمولی تلخ کلامی پر ڈاکٹر مہوش حسنین قتل، ملزمان گرفتار نہ ہوسکے – urdureport.com
لاہور: بسنت کے دوران 17 اموات، ہوم ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع – urdureport.com
ملزم لڑکے نے لڑکی سے سونے کے کانٹے لیے اور ان کو بیچ کر موبائل خریدا۔تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ ’لڑکی اور لڑکا کلاس فیلو رہے ہیں اور پڑوسی تھے۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ ’چیٹ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ لڑکے نے بلیک میلنگ کے تحت پیسوں کا تقاضا کیا اور رقم نہ دینے پر قابل اعتراض کلپس اور تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی دھمکی دی۔‘
ایف آئی آر کے مطابق لڑکے کے بلیک میل کرنے پر مزمل شہزادی نے 14 فروری کو دن 11 بج کر 15 منٹ پر گلے میں دوپٹہ ڈال کر اپنی جان دے دی۔


