اسلام آباد: نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے چیئرمین خورشید احمد ندیم نے عالمی یومِ انسدادِ اسلاموفوبیا کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا آج کے دور میں مسلمانوں کے لیے ایک نہایت حساس اور تشویش ناک مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف کسی مذہب کے خلاف تعصب کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی امن، سماجی ہم آہنگی اور بین المذاہب تعلقات تک پھیل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کیا ہے اور اس کے تدارک کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں پالیسی سازوں، اہل دانش اور دانشور حلقوں نے بھی اس حقیقت کو سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ اسلاموفوبیا صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا رجحان ہے جو معاشروں میں نفرت، تقسیم اور عدم برداشت کو فروغ دے سکتا ہے۔
خورشید احمد ندیم نے کہا کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات امن، عدل اور انسانیت کے احترام پر مبنی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کے ساتھ باہمی احترام، مکالمے اور رواداری کے ذریعے ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اسلاموفوبیا کا مقابلہ نفرت یا ردعمل کے بجائے علم، مکالمے اور درست فہم کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مذہبی تعصبات اور غلط فہمیوں کو دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر دنیا کو زیادہ پرامن اور ہم آہنگ بنانا ہے تو مذاہب کے بارے میں پھیلنے والے منفی تصورات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر ان کا تدارک کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں برداشت، مکالمے اور انسانی احترام کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی تاکہ دنیا کو امن، اعتدال اور باہمی احترام کا پیغام دیا جا سکے۔


