اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • حکومت کی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر مشاورت کی تصدیق
- پاکستان

حکومت کی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر مشاورت کی تصدیق

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ منظوری دے دے تو آئینی طریقے سے ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر مشاورت جاری ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ صدرِ مملکت کرتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ اس کی منظوری دیتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پارلیمنٹ منظوری دے دے تو آئینی طریقے سے ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔

آئینی طریقہ کار

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی بھی فرد کو تفویض کر سکتی ہے اور یہ اختیارات گورنر کو بھی دیے جا سکتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت داخلی بدامنی کی ایسی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی گنجائش موجود ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ آئین کے مطابق اس صورت میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد بھی درکار ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایمرجنسی کے نفاذ کے کوئی سیاسی اثرات ہوتے ہیں تو انہیں برداشت کرنا پڑے گا۔

پی ٹی آئی کے احتجاج پر حکومتی مؤقف

طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بار بار کال کے باوجود تینوں صوبوں میں مطلوبہ تعداد میں لوگ جمع نہیں ہوئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے 20 لاکھ افراد لانے کی بات کی تھی لیکن 20 ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے بعد پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کی تاریخ دی ہے۔

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال پر قابو نہ پانے کے باعث عوام نالاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے میں امن و امان قائم ہوتا ہے اور خوشحالی آتی ہے تو عوام اسے خوش آمدید کہیں گے، تاہم دہشت گردی میں ہونے والے اضافے کو روکنا زیادہ ضروری ہے۔

4 اکتوبر کے احتجاج سے متعلق دعویٰ

طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو بھی ناکام ہوگی۔ ان کے مطابق پارٹی میں دھڑے بندی اور اختلاف موجود ہے جبکہ لانگ مارچ کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی کے اندر اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض ارکان اسلام آباد کی جانب مارچ کے راستے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!