اردو رپورٹ ڈیسک
دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کے نظام میں بڑی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت زمین کی گردش اور ایٹمی گھڑیوں کے وقت میں مطابقت برقرار رکھنے کے لیے شامل کیے جانے والے اضافی سیکنڈ کو ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
سی این این کے مطابق، عالمی ادارہ برائے اوزان و پیمائش (بی آئی پی ایم) کے اجلاس میں اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ادارے کے 69 رکن ممالک کے نمائندے اس معاملے پر ووٹ دیں گے۔ تجویز منظور ہونے کی صورت میں نئی تبدیلی مئی 2027 سے نافذ ہو سکتی ہے۔
لیپ سیکنڈ کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
دنیا میں وقت کی پیمائش کے دو بنیادی طریقے رائج ہیں۔ پہلا طریقہ زمین کی گردش پر مبنی ہے، جس کے نتیجے میں دن اور رات کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ دوسرا طریقہ ایٹمی گھڑیوں کے ذریعے وقت کی پیمائش کا ہے، جو ایٹموں کی قدرتی ارتعاشات کی مدد سے انتہائی درست وقت بتاتی ہیں۔
ایٹمی گھڑیوں کی مدد سے عالمی معیاری وقت، یعنی کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم (یو ٹی سی)، برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہی وقت دنیا بھر کے نظاموں میں وقت کی پیمائش کے لیے بنیادی معیار فراہم کرتا ہے۔
تاہم زمین کی گردش کی رفتار ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ چاند کی کشش، زمین کے اندرونی حصوں میں تبدیلیوں، سمندری لہروں اور پانی و برف کی حرکت جیسے عوامل زمین کی گردش کو متاثر کرتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں زمین کی گردش سے حاصل ہونے والے وقت اور ایٹمی گھڑیوں کے وقت میں بتدریج فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ اس فرق کو محدود رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر گھڑیوں میں ایک اضافی سیکنڈ شامل کیا جاتا ہے، جسے لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔
1972 سے اب تک عالمی گھڑیوں میں مجموعی طور پر 27 مرتبہ اضافی سیکنڈ شامل کیا جا چکا ہے۔
لیپ سیکنڈ ٹیکنالوجی کے لیے مسئلہ کیوں بنا؟
عام زندگی میں ایک سیکنڈ کا اضافہ بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن جدید ڈیجیٹل نظاموں کے لیے یہ تبدیلی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
کمپیوٹر نیٹ ورک، انٹرنیٹ سرورز، مواصلاتی نظام، بجلی کے ترسیلی نیٹ ورک اور ڈیٹا سینٹرز درست اور مسلسل وقت کی پیمائش پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر کوئی سافٹ ویئر اضافی سیکنڈ کو درست طور پر سنبھالنے کے لیے تیار نہ ہو تو تکنیکی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
بڑی ویب سائٹس، فضائی کمپنیوں کے ٹکٹوں کی بکنگ کے نظام اور ڈیٹا سینٹرز میں بھی لیپ سیکنڈ کی وجہ سے تکنیکی مسائل سامنے آ چکے ہیں۔
اسی لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس نظام کو ختم کرنے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ ان کے نزدیک اضافی سیکنڈ کے بغیر وقت کی مسلسل پیمائش جدید ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد ہو سکتی ہے۔
عالمی ادارہ کیا فیصلہ کرنے جا رہا ہے؟
عالمی ادارہ برائے اوزان و پیمائش فرانس کے شہر ورسائی کے قریب واقع ہے اور دنیا بھر میں پیمائش کے معیارات طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ادارے کے 69 رکن ممالک کے نمائندے لیپ سیکنڈ ختم کرنے کی تجویز پر ووٹ دیں گے۔ اس معاملے پر کئی برسوں سے بحث جاری ہے۔
2022 میں رکن ممالک نے ایک قرارداد کی حمایت کی تھی، جس میں 2035 یا اس سے پہلے لیپ سیکنڈ کو مرحلہ وار ختم کرنے کے منصوبے پر زور دیا گیا تھا۔
تاہم، مختلف ممالک کے نظاموں میں وقت کی پیمائش کے مختلف طریقوں کے باعث اس تجویز پر تحفظات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
روس کا سیٹلائٹ نیویگیشن نظام لیپ سیکنڈ استعمال کرتا ہے، جبکہ امریکا کا جی پی ایس اور یورپی یونین کا گیلیلیو نظام وقت کے تعین کے لیے مختلف طریقے اپناتے ہیں۔
برطانیہ کو بھی گرین وچ کی تاریخی اہمیت کے باعث اس معاملے پر تحفظات رہے ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق اس کا مؤقف اب تبدیل ہو چکا ہے۔
کیا مستقبل میں ایک سیکنڈ کم بھی کرنا پڑ سکتا ہے؟
زمین کی گردش کی رفتار میں تبدیلی بھی اس بحث کا ایک اہم پہلو ہے۔ طویل عرصے کے دوران زمین کی گردش عمومی طور پر سست ہوئی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں بعض مواقع پر زمین نسبتاً تیزی سے بھی گھومی ہے۔
اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں گھڑیوں میں ایک سیکنڈ شامل کرنے کے بجائے ایک سیکنڈ کم کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اس عمل کو منفی لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔
اب تک عالمی وقت کے نظام میں اس طرح ایک سیکنڈ کم کرنے کا تجربہ نہیں کیا گیا۔ اس لیے خدشہ ہے کہ ایسی تبدیلی سے ان کمپیوٹر نظاموں میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو وقت کے ہر لمحے کو ریکارڈ اور پراسیس کرتے ہیں۔
عالمی ادارہ برائے اوزان و پیمائش کے مطابق، اہم تکنیکی نظام چلانے والے ادارے اس ممکنہ تبدیلی کے لیے ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہیں۔ ان نظاموں کو تبدیل کرنے اور نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر بھاری اخراجات بھی آ سکتے ہیں۔
لیپ سیکنڈ ختم ہونے سے دن چھوٹے یا بڑے ہوں گے؟
لیپ سیکنڈ ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ زمین کی گردش یا دن اور رات کی مدت اچانک تبدیل ہو جائے گی۔ دن اور رات کا معمول قدرتی طور پر جاری رہے گا۔
اس تبدیلی کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ عالمی گھڑیوں میں زمین کی گردش کے ساتھ مطابقت برقرار رکھنے کے لیے وقفے وقفے سے ایک سیکنڈ کا اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
ایٹمی گھڑیاں مسلسل وقت بتاتی رہیں گی، چاہے ان کے مطابق وقت اور زمین کی گردش سے حاصل ہونے والے وقت میں بتدریج فرق بڑھتا جائے۔
مجوزہ نظام کے تحت دونوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ فرق ایک گھنٹے تک محدود رکھنے کی تجویز ہے۔
بی آئی پی ایم کے شعبۂ وقت کی سربراہ پیٹریزیا ٹیویلا کے مطابق، اس فرق کو ایک گھنٹے تک پہنچنے میں 3 ہزار سال سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔
مستقبل میں آنے والی نسلوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑی تبدیلی کی جائے یا نہیں۔ بعض ماہرین اس ممکنہ تبدیلی کو غیر رسمی طور پر ’’لیپ آور‘‘ یعنی اضافی گھنٹے کا نام دیتے ہیں۔
بعض ماہرین لیپ سیکنڈ ختم کرنے کے مخالف کیوں ہیں؟
یونیورسٹی کالج لندن کے خلائی جغرافیہ کے ماہر ماریک زیبارٹ کا کہنا ہے کہ لیپ سیکنڈ شامل کرنے سے متعلق تکنیکی مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق، موجودہ نظام کام کر رہا ہے اور اس کے ذریعے عالمی معیاری وقت کا زمین کی گردش کے ساتھ تعلق برقرار رہتا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ لیپ سیکنڈ ختم کرنے سے بھی تکنیکی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ دنیا بھر کے اداروں کو اپنے سافٹ ویئر کی جانچ، تبدیلی اور دوبارہ تیاری کرنا پڑے گی۔
اس طرح موجودہ نظام ختم کرنے کے نتیجے میں اضافی اخراجات اور مختلف تکنیکی نظاموں کے درمیان مطابقت کے نئے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟
رائل آبزرویٹری گرین وچ کی سینئر کیوریٹر لوئس ڈیووئے کے مطابق، لیپ سیکنڈ ختم ہونے کی صورت میں زیادہ تر لوگوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں کوئی نمایاں فرق محسوس ہونے کا امکان نہیں۔
لوگ معمول کے مطابق دن اور رات کے اوقات میں اپنے کام کرتے رہیں گے۔ اصل تبدیلی کمپیوٹرز اور دیگر تکنیکی نظاموں میں وقت کی پیمائش اور اسے باہم ہم آہنگ رکھنے کے طریقے میں آئے گی۔
اس بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ دنیا کے لیے زیادہ اہمیت کس چیز کی ہے: گھڑیوں کو زمین کی قدرتی گردش کے ساتھ قریب تر رکھنا یا جدید ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ مستحکم اور مسلسل وقت کا نظام برقرار رکھنا؟
اس حوالے سے حتمی فیصلہ عالمی ادارے کے ووٹ اور آئندہ طے کیے جانے والے اقدامات پر منحصر ہوگا۔


