• Home  
  • میرا گھر میرا آشیانہ ! ایک کروڑ کا آسان قرض لیں گھر بنایں
- پاکستان

میرا گھر میرا آشیانہ ! ایک کروڑ کا آسان قرض لیں گھر بنایں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی حکومت کے تعاون سے شروع کی گئی ہاؤسنگ اسکیم ’’میرا گھر میرا آشیانہ‘‘ میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں اب گھر کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سکیم کا مقصد کم اور درمیانی آمدنی والے افراد کو زیادہ سہولت […]

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی حکومت کے تعاون سے شروع کی گئی ہاؤسنگ اسکیم ’’میرا گھر میرا آشیانہ‘‘ میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں اب گھر کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا قرض حاصل کر سکتے ہیں۔

اس سکیم کا مقصد کم اور درمیانی آمدنی والے افراد کو زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم ستمبر 2025 میں لانچ کی گئی تھی جس کے تحت شہریوں کو گھر، فلیٹ یا پلاٹ کی خریداری اور تعمیر کے لیے آسان شرائط پر قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق فروری 2026 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے بعد اسکیم میں توسیع کرتے ہوئےکہا قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی

جبکہ رہائشی یونٹس کے سائز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اب اس اسکیم کے تحت 10 مرلہ تک گھروں اور 1500 مربع فٹ تک کے فلیٹس کے لیے فنانسنگ حاصل کی جا سکتی ہے۔

سکیم کی خاص بات


اسکیم کی خاص بات یہ ہے کہ پہلے 10 سال تک حکومت مارک اپ سبسڈی فراہم کرے گی، جس کے باعث صارفین کو صرف 5 فیصد شرح پر بینکوں سے قرض ملے گا۔

اس کے بعد اگلے 10 سال کے لیے بینک کائیبور پر 3 فیصد اضافی شرح کے ساتھ قسطوں کا تعین کریں گے۔ مزید یہ کہ اس اسکیم میں کوئی پروسیسنگ فیس یا قبل از وقت ادائیگی پر جرمانہ نہیں رکھا گیا۔


حکومت نے بینکوں کے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں اور قرض کے پورٹ فولیو کے پہلے نقصان پر 10 فیصد رسک شیئرنگ کی ذمہ داری خود لینے کا اعلان کیا ہے۔

سکیم کے لیے اہلیت

اس اسکیم میں کمرشل بینکوں، اسلامی بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
اسکیم کے تحت وہ پاکستانی شہری اہل ہوں گے جن کے پاس درست شناختی کارڈ ہو اور ان کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی یونٹ موجود نہ ہو۔

اس کے علاوہ درخواست گزار کسی دوسرے بینک یا اسکیم سے قرض لینے والا نہ ہو اور ایک فرد صرف ایک بار اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین دونوں اس پروگرام میں درخواست دے سکتے ہیں۔


ماہرین کے مطابق یہ نئی اسکیم سابقہ ’’میرا پاکستان میرا گھر‘‘ پروگرام کا زیادہ لچکدار اور بہتر ورژن ہے، جس میں قرض کی حد میں اضافہ، فلیٹس کی شمولیت اور رسک شیئرنگ جیسے اقدامات اسے عوام کے لیے مزید پرکشش بناتے ہیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں