عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں قائم کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں حکومت کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص بھی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی آئی اے کا قیام 1955 میں عمل میں آیا تھا ، تقریباً 71 سال تک حکومت کے پاس رہنے والا یہ ادارہ اب با الاخر پرائیویٹ شعبے میں چلا گیا ہے۔
حکومت نے کنسورشیم کو باقی حصص، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے ہے، خریدنے کے لیے 90 دن کی مہلت دی ہے اور اس کی آخری تاریخ اپریل کے اختتام پر مقرر کی گئی ہے۔
اس پیش رفت پر عملدرآمد کے پی آئی اے کا مکمل اختیار نجی شعبے کے پاس آ جائے گا۔دسمبر 2025 میں گروپ نے 135 ارب روپے کے عوض پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شاہد علی حبیب نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اپریل کے اختتام تک انتظامی تبدیلیاں نافذ کر دی جائیں گی۔
The newly privatized PIA is gearing up for an exciting listing!
However, it’s important to note that this thrilling development won’t directly benefit the shareholders of the already listed #PIAHCLA, as the PIA is no longer part of #PIAHCLA's portfoliohttps://t.co/b3siWQRI10
— Rahim Valliani (@rrrvalliani) February 14, 2026
’جس کے بعد کمپنی مکمل طور پر نجی ادارے کے طور پر کام کرے گی اور حکومت کی جانب سے نامزد ارکان شامل نہیں ہوں گے۔‘ان کے مطابق سرپرستوں کی تبدیلی اپریل کے آخر یا مئی کے آغاز میں متوقع ہے۔
جنوری میں طے پانے والے معاہدے کے تحت رقوم کی منتقلی کے لیے 12 ماہ کی مدت رکھی گئی ہے، جس سے یہ خریداری قابلِ عمل ہو گئی ہے۔
کامیاب کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر (34.1 فیصد)، فوجی فرٹیلائزر کمپنی (33.9 فیصد)، لیک سٹی (16 فیصد) اور سٹی اسکول بمع اے کے ڈی گروپ (16 فیصد) شامل ہیں۔
مئی 2024 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی منظوری کے بعد کمپنی کو حصص بازار سے نکال دیا گیا۔


