• Home  
  • جو ممالک جیٹ فیول کے محتاج ہیں وہ جا کر آبنائے ہرمز قبضے میں لے لیں ۔ٹرمپ
- ٹاپ سٹوری

جو ممالک جیٹ فیول کے محتاج ہیں وہ جا کر آبنائے ہرمز قبضے میں لے لیں ۔ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے برطانیہ اور دیگر ممالک سے مطالبہ کیا کہ جو جیٹ فیول کے محتاج ہیں وہ Strait of Hormuz جائیں اور “بس اسے اپنے قبضے میں لے لیں۔ ”دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس کے ممالک میں اضافی فضائی دفاعی […]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے برطانیہ اور دیگر ممالک سے مطالبہ کیا کہ جو جیٹ فیول کے محتاج ہیں وہ Strait of Hormuz جائیں اور “بس اسے اپنے قبضے میں لے لیں۔

”دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس کے ممالک میں اضافی فضائی دفاعی نظام بھیج رہا ہے تاکہ اتحادیوں کے “اجتماعی دفاع” کو مضبوط بنایا جا سکے

ابنائے ہرمز کی ضمانت نہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے اختتام پر “مشن مکمل” کا اعلان کرنے سے پہلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضمانت نہیں دے سکتے،


وائٹ ہاؤس کے اندر اعلیٰ حکام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایران کے کنٹرول میں موجود اس اہم تیل گزرگاہ کو کھولنا نہایت ضروری ہے — نہ صرف جنگ کے خاتمے کے لیے بلکہ تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے بھی، جو نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے بڑا مسئلہ بن رہی ہیں۔


تاہم، ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ چار سے چھ ہفتوں کی ڈیڈ لائن کے پیش نظر، حکام نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں جنگی اہداف جلد حاصل کرنے اور اسی مدت میں آبنائے کو کھولنے کا وعدہ پورا نہیں کر سکتے۔

انٹیلیجنس حکام کے مطابق اس گزرگاہ کو مکمل طور پر بحال کرنے میں ہفتوں یا حتیٰ کہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

امریکہ کی اتحادی ممالک پر تنقید

صدر ٹرمپ نے عوامی طور پر اور اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ دیگر ممالک کو اس ذمہ داری کا بڑا حصہ اٹھانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اس راستے پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، اس لیے انہیں بھی اسے بحال کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔


ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ “ہمت پیدا کریں، آبنائے تک جائیں اور اسے اپنے کنٹرول میں لیں۔ آپ کو خود لڑنا سیکھنا ہوگا، امریکہ اب ہر جگہ مدد نہیں کرے گا۔”
ٹرمپ کئی ہفتوں سے اتحادی ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے بحری جہاز بھیج کر تیل بردار جہازوں کو تحفظ فراہم کریں، لیکن ابھی تک کوئی ملک جنگ جاری رہنے کے دوران اس میں شامل ہونے پر تیار نہیں ہوا۔

عالمی رہنماؤں کا موقف

دوسری جانب کئی عالمی رہنما سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اس مسئلے کا بوجھ دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہیں۔
یورپی ممالک، جنہیں ایران پر امریکی حملوں سے پہلے اعتماد میں نہیں لیا گیا، ابھی اس جنگ میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ ممالک نے مستقبل میں تعاون کے بیانات پر دستخط کیے ہیں، لیکن انہوں نے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی۔


صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائے کو کھولنا آسان ہوگا۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو بھی عارضی مسئلہ قرار دیا ہے، جو حال ہی میں 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں۔


وائٹ ہاؤس کے مطابق حکومت نے تیل کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں روسی تیل پر کچھ پابندیوں میں نرمی، ٹینکروں کو انشورنس فراہم کرنا، اور 400 ملین بیرل تیل جاری کرنا شامل ہے۔


امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف امریکہ کا نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی اس پر توجہ دینی چاہیے۔

آبنائے ہرمز کے لیے عالمی اتحاد


وزیر خارجہ Marco Rubio نے بھی کہا کہ امریکہ ایک عالمی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو آبنائے کی نگرانی کرے، لیکن یہ ایک طویل مدتی منصوبہ ہے اور امریکہ اس میں قائدانہ کردار ضروری نہیں کہ ادا کرے۔


اسی دوران China اور Pakistan نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی حفاظت اور جلد از جلد معمول کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں