پی ایس ایل 11 میں کھلاڑیوں کی نیلامی میں مختلف ٹیموں نے اپنی اپنی بولیاں لگائیں تاہم چند بڑے کھلاڑی کسی خریدار کی تو جہ حاصل نہ کر سکے۔
ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقدہ تقریب میں پہلی مرتبہ 8 ٹیموں پر مشتمل ایونٹ کے لیے کھلاڑیوں کا ڈرافٹنگ کے بجائے آکشن کے ذریعے انتخاب کیا گیا۔
پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد مارچ میں ہوگا اور ایونٹ میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد اس میں شریک ٹیموں کی تعداد 8 ہوگئی ہے جنہوں نے آکشن کے ذریعے نئے کھلاڑیوں کو اپنے اسکواڈ کا حصہ بنایا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
فہیم اشرف کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 8.5 کروڑ روپے میں خریدا گیا جبکہ ڈیرل مچل کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 7.6 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ میکس برائنٹ کی بیس پرائز 60 لاکھ روپے تھی اور انہیں 1.95 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔ مہران ممتاز کی بیس پرائز 60 لاکھ روپے تھی اور وہ اسی قیمت پر ٹیم کا حصہ بنے۔ مارک چیپ مین کی بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی جن کو 7 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔
Australia power-hitter Max Bryant has been bought by @IsbUnited 🥳
📺 Watch LIVE ➡️ https://t.co/L3evXE9AsR
#HBLPSL | #NewEra pic.twitter.com/VUXsT2peBz
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) February 11, 2026
محمد وسیم جونیئر کی بولی ان کی بنیادی قیمت 2.2 کروڑ پاکستانی روپے سے شروع ہوئی جن کو 4.1 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔
میر حمزہ سجاد کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی جن کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 70 لاکھ پاکستانی روپے میں حاصل کر لیا.
سمیر منہاس کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی جن کو ایک کروڑ 90 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔
سمین گل اسلام آباد یونائیٹڈ کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔
کراچی کنگز
سلمان علی آغا کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 5.85 کروڑ روپے میں خریدا گیا جبکہ ڈیوڈ وارنر کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 7.9 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ اعظم خان کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 3.25 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔
ایڈم زمپا کی بولی ان کی بنیادی قیمت 4.2 کروڑ روپے سے شروع ہوئی۔ کراچی کنگز نے ایڈم زمپا کو 4.5 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا۔
.@KarachiKingsARY will get the services of Pakistan captain Salman Ali Agha in HBL PSL 2026
📺 Watch LIVE ➡️ https://t.co/g5y3jesQAw
#HBLPSL | #NewEra pic.twitter.com/D8NWXZFbf8
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) February 11, 2026
میر حمزہ کی بولی ان کی بنیادی قیمت 1.1 کروڑ روپے سے شروع ہوئی۔ ان کو 2.4 کروڑ پاکستانی روپے میں خرید لیا گیا۔
حمزہ سہیل کراچی کنگز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔
عاقب الیاس کراچی کنگز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔
لاہور قلندرز
فخر زمان کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 7.95 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ حارث رؤف کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 7.6 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ اسامہ میر کی بیس پرائز 2.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 3.50 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔
Defending champions @lahoreqalandars retain Fakhar Zaman after a bidding battle 🔥
📺 Watch LIVE ➡️ https://t.co/g5y3jesQAw
#HBLPSL | #NewEra pic.twitter.com/patWrwXqxi
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) February 11, 2026
عبید شاہ کی بیس پرائز 60 لاکھ روپے تھی اور وہ 2.7 کروڑ روپے میں ٹیم کا حصہ بنے۔ حسیب اللہ خان کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ اسی قیمت پر شامل کیے گئے۔
محمد فاروق لاہور قلندرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔
پشاور زلمی
خرم شہزاد کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 2.7 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ محمد حارث کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ 2.2 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ عامر جمال کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 1.9 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔
خالد عثمان پشاور زلمی کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
خواجہ نفے کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 6.5 کروڑ روپے میں خریدا گیا جبکہ رائلی روسو کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 5.55 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ جہانداد خان کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 2.5 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔
بسم اللہ خان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔
خان زیب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر ملے۔
وسیم اکرم جونیئر کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ پاکستانی روپے سے شروع ہوئی جن کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 77.5 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔
ثاقب خان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔
فیصل اکرم کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ 1.25 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ عرافات منہاس کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ اسی قیمت پر ٹیم کا حصہ بنے۔
راولپنڈی
نسیم شاہ کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 8.65 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ محمد عامر کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 5.4 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ رشاد حسین کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 3 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔ عبداللہ فضل جن کی بیس پرائس 60 لاکھ روپے تھی وہ ساڑھے 67 لاکھ روپے میں فروخت ہوئے۔
Mohammad Amir becomes a member of the new franchise Team Rawalpindi
📺 Watch LIVE ➡️ https://t.co/L3evXE9AsR
#HBLPSL | #NewEra pic.twitter.com/T4I3c03T5m
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) February 11, 2026
عماد بٹ کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ پاکستانی روپے سے شروع ہوئی جن کو راولپنڈی نے 80 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔
Team Rawalpindi with a strong pick in New Zealand batter Daryl Mitchell 💪
📺 Watch LIVE ➡️ https://t.co/L3evXE9AsR
#HBLPSL | #NewEra pic.twitter.com/KqAndsDDVA
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) February 11, 2026
سیالکوٹ اسٹالینز
صاحبزادہ فرحان کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 5.7 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ جبکہ جہانزیب سلطان کی بیس پرائز 60 لاکھ روپے تھی اور وہ اسی قیمت پر شامل ہوئے۔
ایشٹن ٹرنر کو 4.2 کروڑ پاکستانی روپے کی بنیادی قیمت پر خرید لیے گئے۔
تبریز شمسی 2.2 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔
پیٹر سڈل کی بولی ان کی بنیادی قیمت 2.2 کروڑ روپے سے شروع ہوئی جنہیں سیالکوٹ اسٹیلیئنز نے 2.5 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا۔
حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین
کوشال پریرا کی بیس پرائز 2.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 3.1 کروڑ روپے میں خریدا گیا جبکہ محمد علی کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ 2.15 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ حیدرآباد نے عرفان خان نیازی کو 2 کروڑ 90 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان کی بیس پرائس ایک کروڑ ایک لاکھ روپے تھی۔
کن کھلاڑیوں کو خریدار نہ ملا؟
مرزا مامون امتیاز، علی مجید، مومن قمر، پیٹر ہیٹزوگلو، ہمایوں الطاف، عارف یعقوب، محمد اخلاق، بین میکڈرموٹ، دنیش چندیمل، بھانوکا راجا پکشا، محمد حسنین، رومان رئیس، دلشان مدوشنکا، مہدی حسن مرزا، آصف آفریدی، دانش عزیز، محمد ذیشان، کائل میئرز، کولن منرو، محمد ریاض اللہ، کرس جارڈن، عمیر بن یوسف، جارج منسی، احسان اللہ، سعود شکیل، محمد غازی غوری، لٹن کمار داس، حسین طلعت، عماد وسیم، محمد شہزاد، حیدر علی، شان مسعود، آصف علی، اویشکا فرنینڈو، جیمز ونس، ولیم سدرلینڈ، شاہنواز دہانی، جوش لٹل، رائلی میریڈتھ، محمد اعزاز، میر حمزہ، حنین شاہ، ٹام لیتھم، جوش فلپ، روبن ہرمن، مچل ہے، عمران طاہر، تنویر سنگھا، کیشو مہاراج، ڈیان فاریسٹر، اوڈین اسمتھ، ایون جونز، موئیسز ہنریکس، چرتھ اسالنکا، ول اسمیڈ، ڈیوڈ میلان، عثمان خواجہ، جیک ویدرالڈ، جیسن رائے، رچرڈ گلیسن نہ ببک سکے۔
اس طرح اسیتھا فرنینڈو، گیڈیون پیٹرز، ریس ٹوپلی، ثاقب محمود، میتھیو فورڈ، جیڈن سیلز، نقیب اللہ خان، اعزاز حبیب خان، سعید علی، احمد خان، ثقلین نواز، محمد عمار، سمیر ثاقب، یحییٰ بن عبدالرحمن، عباس علی، عبدالفصیح، راجہ حمزہ وحید، محمد الیاس خان، شارون سراج، محمد طیب عارف، احمد حسین، طیب عباس، سعد خان، عبید شاہد، علی رزاق، محمد عمران، رضوان اللہ، آفاق آفریدی، ابوذر، عمران شاہ، محمد ہریرہ، محمد شہباز، پرویز احمد، شہزیب خان، سراج الدین، ارشد اقبال، نعمان علی، ابوبکر، فہم الحق، محمد طٰہٰ، عمر صدیق، عامر یامین، محمد اکرم، علی شبیر، محمد سلمان، محمد رمیز جونیئر، حمزہ نظر، اسرار حسین، مرزا طاہر بیگ، محمد محسن اور روایت خان کو کسی ٹیم نے نہیں خریدا گیا۔
فرنچائزز کے پاس باقی بجٹ
پی ایس ایل 11 کی نیلامی میں متعدد کھلاڑی ایسے بھی رہے جنہیں کسی فرنچائز کی جانب سے کوئی بولی موصول نہیں ہوئی اور وہ اَن سُولڈ رہے۔ ان میں محمد غازی غوری، لٹن کمار داس اور کوسل مینڈس شامل تھے۔ اسی طرح ٹائمل ملز، نہید رانا اور الزاری جوزف کو بھی کوئی خریدار نہ مل سکا۔ ریلیزڈ بیٹرز کی کیٹیگری میں ہمایوں الطاف، طیب طاہر، محمد فائق، محمد عامر برکی، محمد ذوالکفل، فواد علی، نہید رانا اور راسی وین ڈر ڈوسن بغیر کسی بولی کے رہ گئے۔
آل راؤنڈرز میں شکیب الحسن، ڈینئیل سیمز اور علی عمران کو کسی ٹیم نے منتخب نہیں کیا، جبکہ اسپنرز کی فہرست میں مرزا مامون امتیاز، علی مجید، مومن قمر، پیٹر ہیٹزوگلو، عارف یعقوب، زاہد محمود اور گوداکیش موتی بھی اَن سولڈ رہے۔ وکٹ کیپرز کی کیٹیگری میں محمد اخلاق، بین میکڈرموٹ، دنیش چندیمل اور بھانوکا راجاپکسا کو بھی کوئی بولی نہ مل سکی۔
مزید برآں محمد حسنین، رومان رئیس اور دلشان مدوشنکا بھی خریدار حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ دیگر نمایاں ناموں میں مہدی حسن میراز، آصف آفریدی، دانش عزیز، محمد ذیشان، کائل میئرز، کولن منرو، محمد ریاض اللہ، کرس جارڈن، عمیر بن یوسف، جارج منسی، احسان اللہ، سعود شکیل اور حسین طلعت شامل ہیں۔ عماد وسیم بھی نیلامی میں پیش ہوئے مگر کسی ٹیم نے دلچسپی ظاہر نہ کی، جبکہ فہیم اشرف کے برعکس انہیں کوئی بولی نہ مل سکی اور وہ اَن سُولڈ رہے۔

