اردوEnglish
اتوار, 18 اکتوبر 2026
  • Home  
  • سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف ممکنہ بڑے آپریشن کا منصوبہ
- دنیا

سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف ممکنہ بڑے آپریشن کا منصوبہ

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ایک لاکھ سے زائد یمنی اہلکار شامل ہوسکتے ہیں اور سعودی فضائی مدد فراہم کی جائے گی۔

اردو رپورٹ ڈیسک

سعودی عرب یمن میں حوثی فورسز کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ایک لاکھ سے زائد یمنی اہلکاروں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق کارروائی آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

مجوزہ کارروائی میں یمنی فورسز زمینی آپریشن کریں گی، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملوں کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی۔ کارروائی کی حتمی تاریخ کے بارے میں ابھی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

ممکنہ فوجی آپشنز

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کارروائی کے لیے دو ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ پہلے آپشن کے تحت آبنائے باب المندب کے اطراف محدود کارروائی کی جاسکتی ہے، جبکہ دوسرے آپشن میں یمن کے مختلف علاقوں میں بیک وقت متعدد محاذوں پر وسیع کارروائی شامل ہے۔

دوسرے آپشن کے تحت البیضا، مارب، تعز اور الجوف کے علاقوں میں مربوط کارروائیاں کیے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی کے حجم کے حساب سے ایک لاکھ سے زائد یمنی اہلکاروں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔

کارروائی کے وقت سے متعلق غیر یقینی

رائٹرز سے بات کرنے والے حکام کے مطابق آپریشن کے آغاز کا درست وقت ابھی طے نہیں ہوا۔ مختلف اندازوں میں کارروائی ایک ہفتے کے اندر شروع ہونے سے لے کر نومبر کے اوائل میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک کا وقت بتایا گیا ہے۔

امریکی اور اتحادی تعاون

امریکا سعودی عرب کی یمن میں کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی فوجی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے اتحادیوں کی براہِ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کی توقع نہیں ہے۔

پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کو فوجی سازوسامان فراہم کیا ہے، تاہم پاکستان نے یمن میں لڑاکا کردار ادا کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

باب المندب کی اہمیت

مجوزہ کارروائی کا ایک اہم مقصد حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو پیچھے دھکیلنا اور باب المندب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ حوثی فورسز نے حالیہ عرصے میں یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔

باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور بحیرہ روم اور ایشیا کے درمیان ایک اہم بحری تجارتی راستہ ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!