سال 2025 کے دوران خلیجی ممالک سے 38 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو مختلف قانونی خلاف ورزیوں پر ڈی پورٹ کیا گیا۔
سرکاری دستاویزات میں ملک بدر کیے جانے والے افراد کی تعداد، ممالک کی تفصیل اور وجوہات بھی بتائی گئِ ہیں۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات میں بتایا گیا کہ سعودی عرب سے 27 ہزار 692 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات سے 6 ہزار 794، عمان سے 2 ہزار 537، بحرین سے 786، قطر سے 644 اور کویت سے 163 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی داخلہ ڈی پورٹیشن کی بڑی وجہ رہی، جس کے تحت 4 ہزار 872 افراد کو نکالا گیا۔
گمشدہ پاسپورٹ کے باعث 1 ہزار 933 پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 1 ہزار 639 افراد بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے بے دخل کیے گئے۔ منشیات کے مقدمات میں 1 ہزار 25 اور چوری کے الزامات میں 109 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا۔
مزید برآں، بھیک مانگنے کے الزام میں بھی بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ مجموعی طور پر 780 افراد اس الزام میں ڈی پورٹ ہوئے، جن میں اکثریت سعودی عرب (767) سے تھی، جبکہ 10 متحدہ عرب امارات، 2 قطر اور ایک عمان سے واپس آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں امیگریشن قوانین، لیبر ریگولیشنز اور سکیورٹی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث معمولی خلاف ورزی بھی فوری قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز نے بھی سفارش کی ہے کہ آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ پاکستانی شہری قانونی پیچیدگیوں سے بچ سکیں۔
یہ بھی پڑھئیے

