اردو رپورٹ ڈیسک
حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کونسل کے اجلاس کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے جاری بیان میں کابینہ ڈویژن نے بتایا کہ یہ گاڑیاں اسلام آباد میں اگست، ستمبر 2027 میں ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کے لیے خریدی جا رہی ہیں۔
اہم عالمی اجلاس کی میزبانی
پاکستان اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔ حکومت کے مطابق آئندہ سربراہی اجلاس پاکستان میں ہونے والی اہم ترین بین الاقوامی تقریبات میں شامل ہوگا، جس میں سربراہانِ مملکت، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔
کابینہ ڈویژن نے کہا کہ غیر ملکی معززین کی سیکیورٹی کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیار کے مطابق سفری انتظامات ضروری ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور بیرونی عناصر کی جانب سے موجود خطرات کے باعث اضافی حفاظتی اقدامات کی ضرورت بھی زیادہ اہم ہے۔
موجودہ گاڑیاں مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتیں
حکومت کے مطابق کابینہ ڈویژن کے پاس دستیاب تازہ ترین بلٹ پروف گاڑیاں 2016 ماڈل کی ہیں، جو ایس سی او سربراہی اجلاس کے لیے درکار معیار پر پورا نہیں اترتیں۔
بیان میں کہا گیا کہ 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر حتمی تعداد طے کرنے سے قبل مختلف فورمز پر غور کیا گیا اور 45 گاڑیاں اس تقریب کے لیے کم از کم مطلوبہ تعداد قرار دی گئی ہیں۔
دیگر 300 گاڑیاں کرائے پر لی جائیں گی
کابینہ ڈویژن کے مطابق اجلاس کے لیے درکار تقریباً 300 دیگر گاڑیاں خریدنے کے بجائے کرائے پر حاصل کی جائیں گی۔
حکومت نے عوام پر زور دیا کہ ایس سی او سربراہی اجلاس کو پاکستان کا بین الاقوامی تشخص بہتر بنانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جائے اور اس تقریب کو معمولی یا سیاسی تنازع کا موضوع نہ بنایا جائے۔


