سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر کی شراب کے نشے میں دھت ہو کر یونیورسٹی آنے, ڈانس اور گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
Quality of VCs in Sindh Universities @BakhtawarBZ fyi… pic.twitter.com/6Xn6w9norV
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 11, 2026
ذرائع کا کہنا ہے کہ پرو وائس چانسلر اظہر شاہ کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پرو وائس چانسلر کے نشے آور حالت مین یو نیورسٹی کے کیمپس میں آنے کا معمول سٹوڈنسٹس اور اساتذہ کے لیے انتہائی تکلیف دہ بتایا جاتا تھا کیو نکہ انہوں نے کسی بھی حد تک گفتگو کرنے کا بھی معمول بنا رکھا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر کا یہ معمعل تھا کہ وہ روزانہ نشے میں دھت یونیورسٹی آتے اور اسی حالت میں اساتذہ اور سٹوڈنٹس کے ساتھ گفتگو کرتے۔
پرو وائس چانسلر کے اس رویے کے خلاف پہلے بھی حکام کو آگاہ کیا گیا لیکن کوئی ایکشن نہیں ہو سکا۔
سندھ یونیورسٹی کے دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر اظہر شاہ پر روزانہ نشے میں دھت کام پر پہنچنے، نامناسب زبان استعمال کرنے اور کلاسوں میں خلل ڈالنے کا الزام سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر اظہر شاہ کو فوری طور پر معطل کرکے انکوائری شروع کردی گئی۔
اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اظہر شاہ کی مبینہ ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد صوبائی وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد اسماعیل راہو نے انھیں اُن کے عہدے سے ہٹانے کا حکمنامہ جاری کیا تھا۔
دوسری جانب پروفیسر اظہر شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ سٹوڈنٹس ویک اور فئیر ویل کی تقریبات کی سرگرمیوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر میڈیا پر پیش کیا گیا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ویڈیوز میں رد و بدل کر کے اُنھیں بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اصل مسئلہ حاضری کے نظام کو بحال کرنا تھا جس کے لیے اُن کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بعد اُن کی مخالفت شروع ہو گئی۔
یہ بھی پڑھئیے


