وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نئے سولر ٹیرف بارئے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیپرا کی ریگولیشنز ہیں پالیسی نہیں ہے، جن پر کلیریٹی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق ریگولیشنز میں تبدیلی ریگولیٹر کا کام ہے، اس سے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ چاہے حکومت کی اونرشپ ہو یا نہ ہو۔
حکومتِ پاکستان نے یہ معاملہ 10، 12 ماہ پہلے عوام، بزنس کمیونٹی، سولر ایسوسی ایشنز، انڈسٹری، کنزیومرز، پروزیومرز اور ریگولیٹر کے سامنے رکھ دیا تھا۔ اسی دوران سولر ایسوسی ایشنز اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ سیمینارز ہوئے، جن میں کنزیومرز بھی شامل تھے۔
جون میں معاملات طے کیے گئے۔ سولر ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بھی واضح کیا کہ یہ اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ اس کے بغیر عام عوام کا انٹرسٹ محفوظ نہیں رہ سکتا اور پاکستان کی 95 یا 98 فیصد آبادی کو مزید نقصان ہوگا۔
اس کے ساتھ یہ تجویز دی گئی کہ فوری عملدرآمد کے بجائے 5، 6 ماہ کی مہلت دے کر پراپر ٹرانزیشن کے تحت یہ تبدیلی کی جائے۔ نیپرا بطور ریگولیٹر صارفین کے مفاد کے تحفظ کا ذمہ دار ہے تاکہ کنزیومرز کو ناحق بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے بچایا جا سکے
یہ بھی پڑھئیے


