بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک ایرانی فوجی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین یا خلیج فارس میں اس کے جزائر پر امریکہ نے زمینی حملہ کیا گیا تو ملک ’باب المندب کی آبنائے میں ایک نیا محاذ کھول سکتا ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک سرکاری خبر رساں ایجنسیوں تسنیم اور فارس نے یہ خبر نشر کی ہے۔
یمن کے حوثی، جو ایران کے اتحادی ہیں، اس سے پہلے بھی باب المندب کے علاقے میں حملے کر چکے ہیں۔
اگرچہ ایران اس خطے کے قریب ہے، لیکن اس کا اس آبنائے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ایران کا زیادہ تعلق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے ہے۔معاشی لحاظ سے بھی یہ آبنائے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں سے روزانہ تقریباً 60 سے 70 لاکھ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں۔
باب المندب کی آبنائے بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے
آبنائے باب المندب ایک نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے جو ایشیا اور افریقہ کے درمیان واقع ہے۔ یہ آبنائے یمن کو افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ ایک تنگ راستہ ہے جو سمندری آمدورفت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور اسے دنیا کی مصروف ترین گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن کے ذریعے بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اسی راستے کے ذریعے جہاز آگے جا کر سوئز کینال تک پہنچتے ہیں، جو پھر بحیرہ روم سے رابطہ قائم کرتی ہے۔
اس طرح یہ راستہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان ایک مکمل سمندری تجارتی چین بناتا ہے۔آبنائے باب المندب کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کے جہاز بین الاقوامی قوانین کے تحت گزر سکتے ہیں۔
یہ تیل زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ سے یورپ اور دیگر خطوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی تجارت اور خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے باب المندب کو دنیا کی اسٹریٹیجک اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے


