بالاکوٹ (ضلع مانسہرہ): دو مارچ پیر کی شام خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے قصبے بالاکوٹ میں افطاری کے وقت لوگوں میں خوشیاں بانٹنے والے سوشل میڈیا پر معروف شخصیت محمد جاوید مہانڈری کو ایک پولیس اہلکار نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ واقعے کی خبر علاقے میں بجلی بن کر گری اور فضا سوگوار ہو گئی۔
ہسپتال اور تھانے کے باہر ہنگامہ، پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی گئی
واقعے کی اطلاع ملتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد تھانہ بالاکوٹ اور مقامی ہسپتال کے باہر جمع ہو گئی۔ کچھ ہی دیر میں مشتعل ہجوم نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی۔
محمد جاوید مہانڈری کے بھتیجے اور مقدمے کے مدعی محمد سہیل نے بتایا کہ وہ زخمی ہونے کی اطلاع پر ہسپتال پہنچے تو چند ہی سیکنڈ میں ان کے چچا دم توڑ گئے۔
ان کے مطابق ہسپتال میں لوگوں کا جم غفیر تھا اور عوام شدید مشتعل تھے۔
پوسٹ مارٹم میں تاخیر اور گرفتاری سے متعلق ابہام پر غم و غصہ
محمد سہیل کے مطابق عوام مطالبہ کر رہے تھے کہ فوری پوسٹ مارٹم کیا جائے اور ملزم پولیس اہلکار کی گرفتاری سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ تاہم بروقت اطلاع نہ ملنے پر حالات کشیدہ ہو گئے اور افسوسناک واقعات پیش آئے۔
پولیس کا مؤقف: ملزم گرفتار، اسلحہ ذاتی تھا
ایس پی بالاکوٹ صابر خان کا کہنا ہے کہ محمد جاوید مہانڈری ایک ہردلعزیز شخصیت تھے اور وہ ان کے ذاتی دوست بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں پولیس کی کوئی غفلت شامل نہیں۔
ان کے مطابق واقعے کی اطلاع شام 6 بج کر 7 منٹ پر ملی اور وہ 20 منٹ میں موقع پر پہنچ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ایس ایچ او نے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر لیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ واردات میں استعمال ہونے والا پستول سرکاری نہیں بلکہ ملزم کا ذاتی اسلحہ تھا۔
صابر خان نے کہا کہ جہاں ملزم کے خلاف کارروائی ہوگی، وہیں غلط اطلاعات پھیلانے اور گھیراؤ جلاؤ میں ملوث افراد کے خلاف بھی قانونی اقدام کیا جائے گا۔
مقدمے کی تفصیلات
قتل کا مقدمہ محمد سہیل کی درخواست پر درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق محمد جاوید مہانڈری کنٹری کلب ہوٹل کے صحن میں افطاری کے لیے موجود تھے کہ شام تقریباً چھ بجے ایک پولیس کانسٹیبل نے پستول نکال کر ان کے پیٹ کے دائیں جانب فائر کر دیا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ محمد جاوید کی کسی سے دشمنی نہیں تھی اور ملزم نے طیش میں آ کر فائرنگ کی۔
عدالت نے ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
واقعے کی ویڈیو وائرل
واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افطاری کے دوران ہنسی مذاق کا ماحول تھا۔ ملزم پولیس اہلکار قریب آ کر محمد جاوید کے سینے پر پستول رکھ کر فائر کرتا ہے، جس کے بعد وہ زمین پر گر جاتے ہیں۔
ویڈیو میں زخمی حالت میں محمد جاوید کی آواز سنی جا سکتی ہے کہ ’قرآن کا واسطہ ہے‘ جبکہ موقع پر موجود افراد بعد میں کہتے سنائی دیتے ہیں کہ انہیں گولی لگ گئی ہے۔
’رمضان آ رہا ہے، مجھے تنگ نہیں کرنا‘
محمد جاوید مہانڈری نے رمضان سے قبل ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا:
“میں اپنے لوگوں سے بہت محبت کرتا ہوں اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں، مگر رمضان آ رہا ہے تو مجھے تنگ نہیں کرنا، میں بھی کسی کو تنگ نہیں کروں گا۔”
وہ رمضان میں عبادات کرنے اور چاند رات کو دوبارہ ملاقات کا ذکر بھی کر رہے تھے۔
شخصیت اور مقبولیت
محمد سہیل کے مطابق محمد جاوید نے شادی نہیں کی تھی اور سوگواران میں ان کے دو بھائی شامل ہیں۔ وہ خوش مزاج اور طبع تفریح کے مالک تھے۔
لوگ ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے تھے اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں، اگرچہ ان کا اپنا کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں تھا۔
انتخابات کے دنوں میں انہیں مزاحیہ انداز میں امیدوار بھی نامزد کیا گیا تھا اور انہوں نے باقاعدہ منشور پیش کیا تھا۔
تاریخی نماز جنازہ، سیاسی رہنماؤں کا اظہار افسوس
محمد جاوید مہانڈری کی نماز جنازہ کو بالاکوٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔ انہیں تین مارچ کی شام سپرد خاک کیا گیا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے واقعے کو انتہائی ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور ملزم کو سزا دلائی جائے گی۔
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم پولیس کی حراست میں ہے اور اسے عدالت سے قرار واقعی سزا ملے گی۔


