واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر اس رائ یل کے ساتھ مل کر حملہ اس لیے کیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ایران پہلے حملہ کرنے والا تھا۔
ان کا یہ بیان وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایک روز قبل دیے گئے مؤقف سے مختلف ہے، جس کے باعث وائٹ ہاؤس کو وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں۔
روبیو کا مؤقف:ایرانی ردعمل کا خدشہ تھا

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی (رائٹرز): نے رپورٹ کیا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکہ نے ایران پر پیشگی حملہ اس خدشے کے تحت کیا کہ اس رائ یل کی متوقع کارروائی کے ردعمل میں ایران امریکی افواج کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
روبیو کے مطابق، امریکی حکام کو اندازہ تھا کہ یہ کارروائی خطے میں کشیدگی کو بڑھائے گی اور اس کے نتیجے میں ایران امریکی مفادات پر حملہ کر سکتا ہے، جس سے زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
ٹرمپ کا دعویٰ: ایران پہلے حملہ کرنے والا تھا
جرمن چانسلر فریڈرِخ مرز سے اوول آفس میں ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی رائے میں ایران خود پہلے حملہ کرنے والا تھا۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اس رائ یل نے امریکہ کو جنگ میں دھکیلا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکہ پیشگی اقدام نہ کرتا تو ایران پہلے حملہ کر دیتا۔
ایران نے امریکی حملے کو بلا اشتعال قرار دیا ہے۔
قدامت پسند حلقوں کی تنقید میں اضافہ
امریکہ میں کئی نمایاں قدامت پسند مبصرین نے ایران پر حملے کے فیصلے پر کھل کر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اس رائی ل کے دباؤ میں آیا۔
اسی طرح پوڈکاسٹر میگن کیلی نے بھی اپنے پروگرام میں کہا کہ امریکی حکومت کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کا تحفظ ہے، نہ کہ کسی اور ملک کی جنگ میں شامل ہونا۔
وائٹ ہاؤس کو وضاحتیں دینا پڑ گئیں
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنگ کے آغاز سے متعلق مختلف بیانات سامنے آنے کے بعد نہ صرف ڈیموکریٹ رہنماؤں بلکہ بعض ریپبلکن حامیوں نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کی وجوہات سے متعلق متضاد بیانات نے پالیسی کو غیر واضح بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


