امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضع کیا ہے کہ امریکا آئندہ دو سے تین ہفتوں کے اندر ایران کے ساتھ جاری جنگ سے باہر آ سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے کسی ممکنہ معاہدے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ میں مہم کا بنیادی ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، جس میں کامیابی مل چکی ہے،امریکہ ایران میں طویل عرصے تک موجود نہیں رہے گا اس کو اس کارروائی کے اہم مقاصد تقریباً حاصل کیے جا چکے ہیں۔ ۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی وقت جنگی کارروائی ختم کر سکتا ہے، چاہے اس کے لیے باقاعدہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات ضروری نہیں، تاہم اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو جنگ اس سے بھی پہلے اختتام پذیر ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران میں بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ امریکا کا بنیادی مقصد نہیں تھا۔ ان کے مطابق ایران آئندہ چند برسوں تک جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث ایران کو دوبارہ مستحکم ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ اس وقت اس کی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں کمزور ہو چکی ہیں۔
آبنائے ہرمز بارئے ٹرمپ کا بیان
آبنائے ہرمز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگر ممالک، خصوصاً یورپی ممالک، اپنی توانائی کی ضروریات کے تحفظ کے لیے خود اقدامات کریں، کیونکہ امریکا اس ذمہ داری کو مزید نہیں اٹھائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انخلا کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آ جائے گی اور امریکا اس تنازع سے الگ ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ امریکا ایران میں طویل المدتی موجودگی کا خواہاں نہیں۔
نیٹو ایک کاغذی شیر
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو نیٹو سے نکالنے پر ’سنجیدگی سے غور‘ کر رہے ہیں۔
انہوں نے نیٹو اتحاد کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیا ۔میں کبھی بھی نیٹو سے قائل نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھئِے


