مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارے ایف 35 کو ایران کی فضائی حدود میں مشن کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق طیارہ محفوظ طریقے سے لینڈ کر گیا جبکہ پائلٹ بھی محفوظ ہے، تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
سینٹکام نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے کو ایران کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ حالیہ تنازع کے دوران امریکی فضائیہ کو پیش آنے والا ایک اور بڑا واقعہ ہے۔
اس سے قبل دو مارچ کو تین امریکی F-15E لڑاکا طیارے کویت میں ’فریڈلی فائر‘ کے واقعے میں تباہ ہو گئے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ طیارے غلطی سے اپنے ہی دفاعی نظام کا نشانہ بنے، جب وہ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے خلاف کارروائی میں مصروف تھے۔
بعد ازاں 12 مارچ کو ایک امریکی KC-135 ایندھن بردار طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ حادثہ ایک فضائی واقعے کے بعد پیش آیا، جبکہ ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ طیارے کو مار گرایا گیا۔
دوسری جانب، حالیہ واقعے میں متاثر ہونے والے F-35 طیارے کے نقصان کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے۔ یہ طیارہ دنیا کے جدید ترین اور مہنگے جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جس کی قیمت تقریباً 77 ملین ڈالر تک ہوتی ہے۔
F-35 لڑاکا طیارہ امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ففتھ جنریشن سٹیلتھ جیٹ ہے، جو اپنی رفتار، جدید سینسرز اور دشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ دور سے ہدف کو نشانہ بنانے اور جدید الیکٹرانک جنگی نظام کے ذریعے دشمن کے دفاع کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس طیارے کے تین ماڈلز ہیں: F-35A جو عام رن وے سے اڑان بھرتا ہے، F-35B جو عمودی لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، اور F-35C جو طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے مخصوص ہے۔
یہ طیارہ تقریباً 1.6 ماک (تقریباً 1975 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


