امریکا کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ (Tulsi Gabbard) نے پاکستان کو ان ممالک میں شامل کیا ہے جو مستقبل میں امریکا کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت امریکی سرزمین تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔
امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے 2026 کی سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جدید اور روایتی میزائل نظام تیار کر رہے ہیں جو جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تلسی گبرڈ کے مطابق پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں پر کام کر رہا ہے، جن میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو مستقبل میں امریکا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دہائی میں میزائل خطرات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور 2035 تک امریکا کو درپیش میزائلوں کی مجموعی تعداد 16 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔
واشنگٹن میں مقیم تجزیہ کار شکاع نواز نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو جوہری خطرات کی فہرست میں شامل کرنا دراصل سابق امریکی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
پاکستان کے شاہین 3 میزائل کی رینج قریباً 2800 کلومیٹر تک سمجھی جاتی ہے اور پاکستان کا جوہری پروگرام صرف بھارت کے خلاف دفاعی حکمت عملی کے لیے ہے۔
دوسری جانب ماہر امور خارجہ مائیکل کوگلمین (Michael Kugelman) نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان کا نام دیگر ممالک کے ساتھ لیا گیا ہے، تاہم اسے الگ سے ہدف نہیں بنایا گیا، اس لیے اس بیان کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
گبارڈ نے خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا میں سرگرم شدت پسند گروہ اب بھی امریکی مفادات کے لیے مستقل خطرہ ہیں اور وہ سیاسی عدم استحکام اور کمزور حکومتی رٹ والے علاقوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے، اگرچہ حالیہ بحران میں امریکی صدر کی مداخلت سے کشیدگی میں کمی آئی۔
یہ بھی پڑھئِے


