امریکہ کے کاروباری یا سیاحتی ویزے کی درخواست دیتے وقت 15 ہزار ڈالرز تک کی ضمانتی رقم (بانڈ) کی صورت میں جمع کروانے والے ممالک کی فہرست میں امریکی حکام نے مزید 25ممالک کو شامل کر دیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بانڈ کی رقم جمع کرانے کا یہ مطلب نہیں کہ ویزا ملنا یقنی ہے
امریکی حکومت کے مطابق بانڈ کا مقصد یہ ہے کہ جن افراد کو سیاحت یا کاروبار کے لیے ویزے جاری کیے گئے ہیں، انھیں مدت سے زیادہ قیام کرنے سے روکا جا سکے۔

اس میں تارکین وطن کو جارحانہ انداز میں ملک بدر کرنا، ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی اور سوشل میڈیا پوسٹس اور پرانی تقاریر کی جانچ پڑتال شامل تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر اعلان کے مطابق فہرست میں شامل زیادہ تر ممالک براعظم افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ہیں جبکہ جنوبی ایشیا سے بھوٹان، بنگلہ دیش اور نیپال بھی اس میں شامل کر دئیے گئے ہیں۔ابتدائی طور پر ایسے ممالک کی فہرست میں صرف موریطانیہ، ساؤ ٹومے اینڈ پرنسپ، تنزانیہ، گیمبیا، ملاوی اور زیمبیا کو رکھا گیا تھا
اس منصوبے کا آغاز اگست 2025 میں کیا گیا تھا ۔یکم جنوری 2026 سے اس میں مزید ممالک کا اضافہ کیا گیا اور یہ شرط بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نمیبیا اور ترکمانستان پر بھی لاگو کر دی گئی۔
اب امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ مزید 25 ممالک اس فہرست میں شامل کیے جا رہے ہیں جو کہ الجزائر، انگولا، اینٹیگا اور بارباڈوا، بنگلہ دیش، بنین، برونڈی، کیپ وردے، کیوبا، جبوتی، ڈومینیکا، فجی، گبون، آئیوری کوسٹ، کرغزستان، نیپال، نائجیریا، سینیگال، تاجکستان، ٹوگو، ٹونگا، ٹوالو، یوگنڈا، وانواتو، وینزویلا اور زمبابوے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق جو نئے ملک اس فہرست میں شامل کیے گئے ان کے شہریوں پر بانڈ جمع کرانے کی شرط 21 جنوری سے لاگو ہو گی۔
یہ بھی پڑھئیے
ٹرمپ نے گرین لینڈ میں بھی فوجی مداخلت کی دھمکی دے دی – urdureport.com
میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں, زنجیروں میں قید وینزویلا صدر مادورو – urdureport.com
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ’ان (38) ممالک کے جاری کردہ پاسپورٹ پر سفر کرنے والا کوئی بھی شہری، جو بی ون (کاروباری) یا بی ٹو (سیاحتی) ویزا کے لیے اہل بھی ہو، اسے پانچ ہزار ڈالرز، 10 ہزار ڈالرز یا 15 ہزار ڈالرز کے بانڈ جمع کرانے ہوں گے۔ اور یہ رقم ویزا انٹرویو کے وقت طے کی جائے گی۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں کو ان شرائط سے اتفاق کرنا ہو گا جو آن لائن ادائیگی کے لیے امریکی محکمہ خزانہ کے پلیٹ فارم Pay.gov پر درج ہوں
’بانڈ جمع کرانے کے لیے کسی تیسری پارٹی کی ویب سائٹ استعمال نہیں کی جا سکتی۔ امریکی حکومت کسی تھرڈ پارٹی کے ذریعے جمع کرائی گئی رقم کی ذمہ دار نہیں ہو گی۔ قونصل افسر کی ہدایت کے بغیر کسی شخص نے بانڈ کی رقم جمع کرائی تو وہ اسے واپس نہیں کی جائے گی۔‘
’اور جب قونصل افسر بانڈ کی رقم جمع کرانے کا کہے گا تو ادائیگی کے لیے درخواست گزار کو براہ راست ایک لنک بھیجا جائے گا۔ اس لنک پر کلک کر کے رقم جمع کرائی جا سکے گی۔ ۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق بانڈ جمع کرانے والوں پر یہ شرط بھی عائد ہو گی کہ وہ امریکہ آنے اور جانے کے لیے مخصوص ہوائی اڈوں کا استعمال کریں۔ جن میں :بوسٹن لوگن انٹرنیشنل ائیرپورٹ،جان ایف کینیڈی اور واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ائیرپورٹ ، انٹرنیشنل ائیرپورٹ شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر درج شرائط کے مطابق ان صورتوں میں بانڈ خود بخود منسوخ کر دیا جائے گا اور رقم واپس کر دی جائے گی۔ اگر ویزا رکھنے والا اپنے قیام کی مدت کے اندر ملک چھوڑ دے اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے ریکارڈ میں اس کا اندراج ہو جائے۔ویزا رکھنے والا اپنے ویزا کی معیاد ختم ہونے سے پہلے امریکہ کا سفر نہ کرے۔ یا پھر ویزا رکھنے والے کو داخلے کی اجازت دیے بغیر امریکی ائیرپورٹ سے ہی واپس بھجوا دیا جائے۔
اگر ویزا رکھنے والا بانڈ کی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا تو امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اس کا کیس امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) کو بھیجے گا تاکہ تعین کیا جا سکے کہ خلاف ورزی واقعی ہوئی ہے یا نہیں۔
اس میں یہ شرائط شامل ہیں، لیکن معاملہ صرف ان شرائط تک محدود نہیں،اگر ہوم لینڈ سکیورٹی کے ریکارڈ سے معلوم ہو کہ ویزا رکھنے والے نے اپنی مدت سے زیادہ قیام کیا۔ویزا رکھنے والا مدت ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ میں رکا رہا۔ویزا رکھنے والے نے نان امیگرنٹ اسٹیٹس سے باہر نکلنے کی درخواست دی، جیسے کہ پناہ کا مطالبہ کرنا۔


