• Home  
  • “اورحان غازی” سیزن 1 میں تاریخی فیصلے کی جھلک دکھائی دینے لگی
- انٹرٹینمنٹ

“اورحان غازی” سیزن 1 میں تاریخی فیصلے کی جھلک دکھائی دینے لگی

سلطان اورحان بے کی تاج پوشی کے بعد سلطنتِ عثمانیہ میں ایک نئے اور منظم دور کے آغاز کو تاریخی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، جسے معروف تاریخی ڈراما “اورحان غازی” کے سیزن 1 میں بھی مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سلطان اوحان بے ڈرامے کے ابتدائی مناظر میں اورحان بے کو ایک ایسے رہنما […]

سلطان اورحان بے کی تاج پوشی کے بعد سلطنتِ عثمانیہ میں ایک نئے اور منظم دور کے آغاز کو تاریخی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، جسے معروف تاریخی ڈراما “اورحان غازی” کے سیزن 1 میں بھی مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

سلطان اوحان بے ڈرامے کے ابتدائی مناظر میں اورحان بے کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنے والد عثمان غازی کی میراث کو صرف فتوحات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ایک مضبوط ریاستی نظام قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ کہانی میں واضح کیا گیا ہے کہ سلطنت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرحدوں اور پیچیدہ ہوتے انتظامی امور نے ایک باقاعدہ حکومتی ڈھانچے کی ضرورت کو ناگزیر بنا دیا تھا۔

سیزن 1 کے ایک اہم درباری منظر میں اورحان بے اپنے قریبی ساتھیوں اور بزرگوں سے مشاورت کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی پس منظر میں وہ اپنے بھائی علاؤالدین علی کی دانشمندی، تدبر اور دیانت کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ریاستی نظم و نسق کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ڈرامے میں اس تقرری کو محض خاندانی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی انتظامی اصلاح کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

نیہا ککڑ نے طلاق سے متعلق پھیلی افواہوں پر خاموشی توڑ دی – urdureport.com

کہانی کے مطابق علاؤالدین علی کو سلطنت کا پہلا باقاعدہ وزیر مقرر کیا جاتا ہے، جو بعد ازاں وزیرِ اعظم کے منصب کی بنیاد بنتا ہے۔ ڈراما اس فیصلے کو سلطنتِ عثمانیہ کو قبائلی طرزِ حکمرانی سے نکال کر ایک منظم ریاستی نظام کی طرف لے جانے والا اہم موڑ قرار دیتا ہے۔

سیزن 1 میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ اس نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت فوجی اور سول امور کو الگ الگ مگر مربوط انداز میں چلانے کی سوچ سامنے آتی ہے۔ وزراء، پاشاؤں اور فوجی کمانڈروں کے کردار واضح کیے جاتے ہیں تاکہ نظم و ضبط اور فیصلہ سازی میں بہتری لائی جا سکے۔ یہ پیش رفت سلطنت کو محض تلوار کی طاقت سے نہیں بلکہ نظم و قانون کی بنیاد پر مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کی گئی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں