برطانیہ کی اکثر یونیورسٹیوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کے داخلوں کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے، جس کے بعد یقینی طور پر دونوں ممالک کے ہزاروں طلبہ متاثر ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد جب یونیورسٹیوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش سے طلبہ کی بھرتی کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ان میں چند نمایاں ادارے جیسا کہ یونیورسٹی آف چیسٹر، وولورہیمپٹن، ایسٹ لندن، ہیرٹفورڈشائر، سَنڈر لینڈ اور کوونٹری شامل ہیں۔
کچھ یونیورسٹیوں کی جانب سے یہ پابندی 2026 تک عائد کی گئی ہے۔ جبکہ بعض نے صرف مخصوص شعبوں یا داخلہ سیشن کے لیے وقتی طور پر یہ قدم اٹھایا ہے۔
واضح رہے کہ ستمبر 2025 سے برطانوی حکومت نے طلبہ کے ویزا قوانین سخت کر دیے تھے، جن کے تحت یونیورسٹیوں کے لیے لازم قرار دیا گیا کہ وہ صرف ان ممالک سے طلبہ کو داخلہ دیں جہاں اسٹوڈنٹ ویزا ریفیوزل ریٹ 5 فیصد سے کم ہو۔
یاد رہے کہ اسٹوڈنٹ ویزا ریفیوزل ریٹ پاکستان کا قریباً 18 فیصد ہے، جس کے باعث یوکے کی کئی یونیورسٹیوں نے پاکستان کو بھی ہائی رسک کیٹیگری میں شامل کیا ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ پر داخلوں کی پابندی امتیازی فیصلے کے تحت نہیں بلکہ اسٹوڈنٹ ویزا نظام کی شفافیت اور قانونی تقاضوں کو برقرار رکھنے کے لیے عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
کینیڈا نے 74فیصد بھارتی طلبہ کی ویزا درخواستیں مسترد کر دیں – urdureport.com
پنجاب جامعات میں طلبہ تنظیموں کے مکمل خاتمے کا فیصلہ – urdureport.com
برطانوی حکومت نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کے داخلے روکنے کا فیصلہ کسی امتیاز کی وجہ سے نہیں بلکہ طلبہ کے ویزا نظام کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان ممالک سے درخواستوں کے مسترد ہونے کی شرح کافی زیادہ تھی، اسی لیے حکومت نے یونیورسٹیوں کے لیے یہ شرط سخت کر دی کہ ان کا ویزا مسترد ہونے کا تناسب 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
’چونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی شرحیں اس حد سے کہیں زیادہ تھیں، اس لیے بعض یونیورسٹیوں نے انہیں زیادہ خطرے والے ممالک قرار دے کر عارضی طور پر داخلے روک دیے۔‘
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندی وقتی ہے اور حالات بہتر ہونے پر دوبارہ داخلے بحال ہو سکتے ہیں۔

