معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ اسلام میں کوئی بھی شخص چاہے کتنے بڑے عہدے پر ہو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا یہ اسثنیٰ ملک کے لیے نہایت شرمناک ہوگا، پارلیمنٹ کے ارکان سے درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں، ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیا گیا تھا جو اسلام کے خلاف تھا۔
یہ بھی پڑھیں
27ویں آئینی ترمیم کے خلاف اپوزیشن اتحاد نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا – urdureport.com
27 ویں آئینی ترمیم ،آئینی عدالت،چیف آف ڈیفنس کا عہدہ قائم – urdureport.com
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے۔

