تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کے لیے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریفرنس دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا۔
وزارتِ داخلہ کےذرائع کے مطابق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی کے لیے سپریم کورٹ سے فیصلہ درکار نہیں ہوتا اور حکومتی قانونی دماغوں کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ سے اس وقت رائے درکار ہو گی جب یہ پابندی آئین کے تحت لگائی جائے۔ذرائع وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے نہ کہ آرٹیکل 17 کے تحت لگائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی۔ – urdureport.com
پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی،سمری بھجوا دی – urdureport.com
سعد اور انس رضوی ٹریس،گھر پر چھاپہ کروڑوں کا سونا ملکی غیر ملکی کرنسی برامد – urdureport.com
اس سے قبل وزارتِ داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا نوٹیفکیشن آج جاری کر دیا ہے۔واضح ر ہے کہ گزشتہ روز وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس میں متفقہ طور پر ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دی گئی۔
پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی جماعت پر اس انداز میں پابندی لگائی گئی ہے کہ اس میں سپریم کورٹ میں بھی جانے کی ضرورت نہ رہے تو آنے والے دور میں کسی بھی سیاسی جماعت پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی لگانے کی ایک مثال قائم ہو جائے گی جیسا کہ حکومتی اراکین اکثر تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے بارئے میں بیانات دیتے رہتے ہیں۔

