احتساب عدالت کے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں تو شہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10،10 سال قید کی سزا جبکہ ان دونوں کو 1 کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 409 کے تحت بھی 7، 7 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی۔ مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال کی سزا سنائی گئی ۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں احتساب عدالت کے جج نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنایا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی زائد عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے پر کم سے کم سزا دی گئی، مجرموں کی عرصہ حوالات کو بھی سزا میں شامل کرلیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
واٹر کینن سے گھبرانے والے نہیں اپنے بھائی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔علیمہ خان – urdureport.com
بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے2021 میں سعودی ولی عہد سے بلغاری جیولری سیٹ وصول کیا۔ ایف آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق جیولری سیٹ کی کُل مالیت ساڑھے 7 کروڑ سے زائد تھی۔ جیولری سیٹ کا ریکارڈ وزارتِ خارجہ سے بھی حاصل کیا گیا۔ ملزمان نے پرائیویٹ فرم سے بلغاری سیٹ کی قیمت صرف 59 لاکھ روپے لگوائی۔
کیس کے تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا اور دونوں ملزمان خیانت مجرمانہ کے مرتکب پائے گئے۔
پی ٹی آئی کے با نی چیر مین کو جرم ثابت ہونے پر دفعہ 409 کے تحت 10 سال سزا سنائی گئی جبکہ انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت انہیں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بشریٰ بی بی کو بھی 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ مجرمان کو فی کس 1 کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانہ عائد ہوا اور اس جرمانے کی عدم ادائیگی پر 6، 6 ماہ مزید قید کی سزا ہوگی۔


