تحریر : طارق اقبال چوہدری

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں یہ ایک عجب واقعہ رونما ہوا جب آج 13 نومبر کی شام سپریم کورٹ میں تین سینیر جج جو کہ ما ضی میں ایک ہی لاء فرم میں رہے اور تینوں دوست تھے ان میں سے دو نے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے آئِنی اختیارات کو ختم کر نے پر استعفیٰ دیا جبکہ تیسرے نے آخری چیف جسٹس کے عہدے کے ساتھ پاکستان کا لفظ لگوانے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
جی ہاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ جو کہ نہ صرف اچھے دوست تھے ،جہاں ان میں یہ قدر بھی مشترک تھی کہ تینوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں زور و شور سے حصہ لیا ،تینوں ہائی کورٹ کے جج بنے،تینوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس بنے ،تینوں سپریم کورٹ کے جج بھی بنے مگر تین میں سے دو آئین آئین کا راگ الاپتے بچھڑ گئے۔

چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ نے مل کر 1997 میں آفریدی شاہ اور من اللہ لاء فرم قائم کی اور ایک دوسرے کے ساتھ ملکر کام کیا۔وہ 1997سے2012تک اس لاء فرم میں پارٹنر رہے ۔
ملک میں 27ویں آئینی ترمیم میں جہاں وفاقی آئِنی عدالت قائم کی گئی اور سپریم کورٹ کے آئینی مقدمات سننے کے اختیارات کو عملاً ختم کر دیا،تو اس وقت چیف جسٹس کے عہدے پر 26آئِنی ترمیم کے نتیجے میں تیسرے دوست جج جسٹس یحییٰ آفریدی موجود تھے اور باقی دونوں سینیر دوست ججوں نے ان کو آئین اور سپریم کورٹ کی بقا کے حوالے سے خط لکھے۔

27ویں آئینی ترمیم میں پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ آف پاکستان شامل نہ تھا جس کو ایک چھوٹی سی خواہش کا احترام کر تے ہوئے حکومت نے پورا کر دیا اب جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم کورٹ کے آخری چیف جسٹس ہوں گے جن کے نام کے ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان لکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
سپریم کورٹ کے دو سینیر جج جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی – urdureport.com
قومی اسمبلی سے بھی 27ویں آئینی ترمیم منظور،یحییٰ آفریدی بدستور چیف جسٹس آف پاکستان – urdureport.com
تینوں دوست اب سپریم کورٹ میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے جب دو جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا اور اپنے چیف جسٹس کو ادارے کی بقا کے لیے ایکشن لینے کا کہا جبکہ تیسرے دوست کے نام کے ساتھ پہلے صرف ترمیم کی پہلی کاوش میں چیف جسٹس تھا اور بعد میں ایک چھوٹی سی خواہش کا احترام کیا گیا یوں جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان کے آخری چیف جسٹس آف پاکستان کا اعزاز حاصل کر نے میں کامیاب رہے۔

اور یوں دوستی کی اس کہانی کا انجام ہو گیا۔

