بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سابق چیئرپرسن خالدہ ضیا کو ڈھاکہ کے شیر بنگلہ نگر میں ان کے شوہر اور سابق فوجی افسر ضیا الرحمن کی قبر کے قریب دفن کیا گیا لیکن یہ ایک معمہ رہا کہ ان کے شوہر ضیا الرحمن کو اخر ڈھاکہ میں شیر بنگلہ نگر سے پہلے کہاں دفن کیا گیا۔
بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیا الرحمان کو 30 مئی 1981 کو چٹاگانگ میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔
جب صدر ضیاء الرحمن اپنی پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے 29 مئی 1981 کو چٹاگانگ کے دو روزہ دورے کے پہلے دن مختلف ملاقاتیں کیں لیکن فوجی افسروں کے ایک گروپ نے چٹاگانگ سرکٹ ہاؤس پر حملہ کر کے ضیاء الرحمان پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ 30 مئی کی صبح ریڈیو پر نشر ہوئی۔
اس وقت نائب صدر جسٹس عبدالستار نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھال لیا اور صدر ضیا الرحمن کی موت کا باقاعدہ اعلان کیا۔ قتل کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ضیاء الرحمان کی لاش کو خفیہ طور پر چٹاگانگ کے پہاڑی علاقے رنگونیا لے جایا گیا اور میڈیا کے مطابق ضیاء الرحمن کو رنگونیا کے علاقے میں ایک پہاڑ کے دامن میں دفن کیا گیا تھا۔

قتل کی اطلاع ملنے کے بعد اسی دن صدر رحمان کی لاش ڈھاکہ لانے کی کوشش کی گئی۔حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ چٹاگانگ چھاؤنی کے اس وقت کے جی او سی میجر جنرل ابوالمنظور نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔لیکن 31 مئی کو بغاوت میں حصہ لینے والے فوجیوں اور افسروں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔
بہت سارے لوگوں نے نئی حکومت کے ساتھ وفاداری نبھانا شروع کر دی حکومت نے فوج میں شامل باغی افسروں اور سپاہیوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔
میجر جنرل منظور اور کرنل مطیع الرحمان سمیت کئی فوجی افسران 31 مئی کی رات چٹاگانگ کیمپ سے فرار ہو گئے۔
میجر جنرل منظور کے فرار ہونے کے بعد چٹاگانگ فوجی کیمپ دوبارہ حکومت کے کنٹرول میں آ گیا۔ اس کے بعد پولیس منظور کو گرفتار کر کے کیمپ لے آئی لیکن اسے بھی بعد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اس طرح فوجی بغاوت کے نتیجے مینا ن کی لا ش کو پہلے ڈھاکہ نہ لایا جا سکا۔
اگرچہ اس وقت کی حکومت نے بعد ازاں انھیں ڈھاکہ کے شیر بنگلہ پارک میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ لیکن یہ ان کی پہلی تدفین نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئیے
قتل کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ضیاء الرحمان کی لاش کو خفیہ طور پر چٹاگانگ کے پہاڑی علاقے رنگونیا لے جایا گیا۔اس وقت کئی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ ضیاء الرحمن کو رنگونیا کے علاقے میں ایک پہاڑ کے دامن میں دفن کیا گیا تھا۔
جس کے بعد حالات تبدیل ہو نے پر سابق صدر کی تدفین کے لیے شیر بنگلہ نگر پارک کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ پارک نئے پارلیمنٹ ہاؤس اور جھیل کے شمال میں اور گان بھون کے مشرق میں واقع ہے۔‘فوجی بغاوت کے بعدشیر بنگلہ نگر پارک کا انتخاب کیا گیا اور وہاں پر سابق صدر ضیا الرحمن کو دوبارہ دفن کیا گیا۔اس طرح سابق چیئرپرسن خالدہ ضیا کو ڈھاکہ کے شیر بنگلہ نگر میں ان کے شوہر اور سابق فوجی افسر ضیا الرحمن کی قبر کے قریب دفن کیا گیا۔
