سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے اعلان کیا کہ پرو خالصتان گروپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی پیشکش کر رہا ہے۔

انہوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےیہ رقم صدر ٹرمپ کے اس وژن کی عملی حمایت ہے جس کا مقصد جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے بیان کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بورڈ آف پیس کے قیام پر خراجِ تحسین پیش کیا اور وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بھی خطے میں امن اور استحکام کے لیے ان کے وژن پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس کے فریم ورک کے تحت سکھ فار جسٹس صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھارتی حکومت، بالخصوص مودی حکومت، کو مذاکرات پر آمادہ کریں اور بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب میں خالصتان ریفرنڈم کی اجازت دلائیں۔
پنوں کے مطابق اگر خالصتان ریفرنڈم کے ذریعے بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب کو مستحکم کیا گیا تو پورے جنوبی ایشیا میں استحکام آ سکتا ہے، بصورتِ دیگر یہ خطہ ایک خطرناک اور خونریز تصادم کی جانب بڑھ سکتا ہے جس کے عالمی اثرات ہوں گے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ پنجاب اور سکھ قوم 3 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے، جس کی الگ شناخت، تاریخ اور سیاسی ارادہ موجود ہے، مگر وہ بھارتی قبضے میں ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی حکومت نے خالصتان ریفرنڈم کی حمایت کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی ہیں، اور صرف 7 دنوں میں 8 ہزار سے زائد سکھوں کو ’گینگسٹر‘ قرار دے کر حراست میں لیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جعلی مقابلے، دہشتگردی کے الزامات اور سیاسی رائے کو دبانا اس بات کا عندیہ ہیں کہ پنجاب اور مودی حکومت کے درمیان ایک خونریز تصادم جنم لے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
ننکانہ صاحب سے کرتار پور تک موٹروے“گرو نانک ایکسپریس وےکی فوری تعمیر – urdureport.com
بھاٹی گیٹ واقعہ اور قتل میں فرق نہیں،متاثرہ فیملی کو ایک کروڑ دلوائیں گے،مریم نواز – urdureport.com
انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن بلیو اسٹار، نومبر 1984 کے فسادات اور دہائیوں پر محیط انسدادِ حریت کارروائیوں میں لاکھوں سکھ جانیں ضائع ہوئیں۔
پریس کانفرنس میں گرپتونت سنگھ پنوں نے واضح کیا کہ سکھس فار جسٹس صرف پُرامن اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، جس کا اظہار خالصتان ریفرنڈم کی صورت میں ہو رہا ہے، اور اب تک دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زائد سکھ اس عمل میں حصہ لے چکے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی مطالبات کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا تو تشدد کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اسی لیے سکھس فار جسٹس ایک ارب ڈالر کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی پیشکش کر رہی ہے تاکہ بھارت کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو۔

