پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج (منگل کو) سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں کیں.
انہوں نے پریس کانفرنس کے آغاز میں گزشتہ سال 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال ملک میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 اور دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، ملک بھر میں دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے جن میں 12 سو35 شہری و سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں،ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنتہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، گز شتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں اسکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔
ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے، تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ (خیبرپختونخوا) فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس بھی چلائے اور کہا کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں۔
انہوں نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق ایک بیان دکھایا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجک اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔اے این پی کی مثال دیتے ہوئے جسے دہشت گردی کی مخالفت کرنے پر دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔
، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم مرنے کے لیے تیار نہیں، ہم کھڑے نہیں ہوں گے، ہم ان کے ساتھ جا ملیں گے۔انہوں نے پھر پی ٹی آئی کا نام لیے بغیرسوال اٹھایا کہ دہشت گردوں نے کبھی اس جماعت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشت گرد سےکوئی ہمدردی نہیں، دہشت گردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق کو غالب ہی آنا ہے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔


