جنوبی پنجاب کے مشہور ٹک ٹاکر ’اچھو ڈان‘ اور ان کی ’اہلیہ‘ نادیہ کی حقیقت سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین حیران رہ گئے ہیں، جب یہ انکشاف ہوا کہ ویڈیوز میں دکھائی دینے والا جوڑا دراصل دو بھائی ہیں، نہ کہ میاں بیوی۔
کافی عرصے سے ٹک ٹاک پر فعال یہ جوڑا اپنی رومانوی ویڈیوز کی وجہ سے شہرت حاصل کر رہا تھا۔ ’اچھو ڈان‘ کے ایک لاکھ 21 ہزار سے زائد فالوورز ہیں، اور وہ اپنی ’اہلیہ‘ نادیہ کے ساتھ ویڈیوز میں ایک مخصوص انداز میں سرائیکی زبان کے مکالمے ادا کرتے نظر آتے تھے۔ ان کا مشہور ڈائیلاگ “نادیہ میڈی سونی سوانی، میڈی بگو” سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکا تھا، جس پر نادیہ ہمیشہ مختصر جواب دیتی تھیں: “جی”۔
ان کے یہی مکالمے ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک پر تیزی سے پھیل گئے، اور ’اچھو ڈان‘ کا نام سوشل میڈیا ٹرینڈز میں شامل ہو گیا۔ تاہم ان کی پرانی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ان کی اصلیت کھل کر سامنے آگئی۔
Nadia nadir real (@achu_don78677) | TikTok
پرانے کلپس، جو اب بھی مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دستیاب ہیں، میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ’اچھو ڈان‘ اور ’نادیہ‘ دونوں دراصل مرد ہیں۔ صارفین کے مطابق ان دونوں نے شادی شدہ جوڑے کا کردار ادا کرکے فالوورز بڑھانے اور شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹس کے مطابق، جنہیں نیوز پلس نے بھی نشر کیا، ’نادیہ‘ کے کردار میں نظر آنے والا شخص دراصل نادر ہے، جو ’اچھو ڈان‘ کا حقیقی بھائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
زارا ترین اور فرحان طاہر کی چار ماہ میں علیحدگی کس نے دھوکہ دیا – urdureport.com
اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے، میمز اور طنزیہ پوسٹس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کئی صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم تو رومانوی جوڑے کی کہانی دیکھ رہے تھے، نکلے دونوں بھائی!”، جبکہ کچھ صارفین نے اسے محض “تفریحی اداکاری” قرار دیا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے رجحانات کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں صارفین شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف کردار اور کہانیاں تراشتے ہیں۔
اس سے قبل بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ پشاور میں پیش آ چکا ہے، جہاں ایک مرد ٹک ٹاکر کو خاتون بن کر نامناسب ویڈیوز شیئر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، ڈیجیٹل دنیا میں ساکھ، سچائی اور اخلاقی حدود کا برقرار رہنا ایک بڑھتا ہوا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ’اچھو ڈان‘ اور ’نادیہ‘ کا واقعہ اسی حقیقت کی تازہ مثال ہے کہ “وائرل ہونا” کبھی کبھی سچائی سے زیادہ اہم سمجھا جانے لگا ہے۔


