سندھ کے شہر ٹُھل میں لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ایس ایس پی جیکب آباد کی تحقیقات میں چھ پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، پو لیس حکام نے تمام اہلکاروں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایس ایس پی کے مطابق متاثرہ لڑکی آسیہ کھوسو کی دادی کی درخواست پر آرڈی 44 تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جبکہ انکوائری رپورٹ میں پولیس اہلکاروں کی اجتماعی زیادتی ثابت ہوئی۔
نامزد ملزمان میں اے ایس آئی محراب سندرانی، ہیڈ کانسٹیبل عبدالنبی سامت، اور چار سپاہی غلام یاسین جکھراڻي، خادم حسین جکھراڻي، میر حسن بمبل اور برکت جکھراڻي شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے
حلف دیتا ہوں کبھی سیاست میں نہیں آؤں گا، اقرار الحسن کی پرانی ویڈیو وائرل ہو گئی – urdureport.com
ایس ایس پی جیکب آباد کا کہنا ہے کہ تمام ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
دوسری جانب آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ محمد کلیم ملک نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔


