تحریر طارق اقبال چوہدری
سوڈان میں دو جرنیلوں کی لڑائی نے اس کو تباہی کے دہا نے لا کھڑا کیا ہے اور اس وقت سوڈان میں قتل و غارت کی وہ داستانیں لکھی جا رہی ہیں کہ دنیا میں بھوک افلاس قتل و غارت نقل مکانی کا سب سے بڑا المیہ جنم لے چکا ہے۔
سوڈان کا انسانی المیہ
اقوامِ متحدہ کے مطابق، اپریل 2023 سے جاری اس خانہ جنگی میں اب تک 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 1 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔
خرطوم: سوڈان میں خانہ جنگی کا سلسلہ رک نہ سکا، فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے درمیان جھڑپوں میں شدت آگئی ہے، جس کے نتیجے میں مغربی کردفان اور دارفور کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔سوڈان کے پیشتر علا قوں میں انسانوں کے نقل مکانی اور قتل عام کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، مغربی دارفور کے شہر الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورس نے مکمل قبضہ کر لیا ہے، جس کے بعد وہاں اجتماعی پھانسیوں، نسلی بنیادوں پر قتل عام اور شہریوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
سوڈان کے دو جرنیل کون کون سے ہیں
عبدالفتاح البرہان، سوڈانی مسلح افواج ایس اے ایف کے سربراہ، اور ’حميدتی‘ کے نام سے مشہور جنرل محمد حمدان دقلو، نیم فوجی دستوں ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ – آر ایس ایف (RSF) کے سربراہ۔ ہیں

واضح رہے کہ ملک کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کی حریف ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان اپریل 2023 سے جاری لڑائی کے باعث ملک کو بڑے پیمانے پر تشدد، بھوک اور نقل مکانی کا سامنا ہے جس نے دنیا میں سب سے بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔
دونوں نے اکھٹے فوج میں کام کیا ہے اور اب بغاوت بھی کی۔ اب ان کی ایک دوسرے کے خلاف بالادستی کی جنگ سوڈان کو بری طرح سے متاثر کر رہی ہے۔اصل میں دونوں نے ایک دوسرے سے بغاوت کر دی ہے۔
عبدالفتاح البرہان عبدالرحمٰن البرہان،
عبدالفتاح البرہان عبدالرحمٰن البرہان، 1960 میں پیدا ہوئے ،وہ سوڈان کے ایک فوجی افسر ہیں جو 2019 سے ملک کے عملی (ڈی فیکٹو) رہنما کے طور پر اقتدار میں ہیں۔ اپریل 2019 میں سوڈانی انقلاب کے بعد، عوامی احتجاج کے نتیجے میں ابتدائی سربراہ احمد عوض ابن عوف کے استعفے کے ایک دن بعد، انہیں عبوری فوجی کونسل (Transitional Military Council) کی قیادت سونپی گئی۔ وہ اس کونسل کے چیئرمین کے طور پر اس وقت تک رہے جب تک 17 اگست کو شہری نمائندوں کے ساتھ ایک عبوری آئینی معاہدہ نافذ نہ ہوا۔ اس کے بعد 21 اگست کو ایک اجتماعی ریاستی ادارہ، عبوری خودمختار کونسل (Transitional Sovereignty Council) تشکیل دی گئی، جس کی ابتدائی سربراہی بھی البرہان کے پاس تھی۔
محمد حمدان دگالو موسیٰ کون ہیں
محمد حمدان دگالو موسیٰ، جنہیں عام طور پر "حمیدتی” کے نام سے جانا جاتا ہے، 1974 یا 1975 میں پیدا ہوئے۔ وہ سوڈان کے ایک فوجی افسر اور جنگجو سردار ہیں جو اس وقت نیم فوجی تنظیم "ریپڈ سپورٹ فورسز” (RSF) کے سربراہ ہیں۔ وہ دارفور کے رزیقات قبیلے سے تعلق رکھنے والے سابق جنجوید رہنما ہیں۔ 2019 کی سوڈانی فوجی بغاوت کے بعد وہ عبوری فوجی کونسل (TMC) کے نائب سربراہ بھی رہے۔ 2013 سے وہ RSF کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں اور معروف جریدے "دی ایکانومسٹ” کے مطابق جولائی 2019 کے آغاز میں انہیں سوڈان کا سب سے طاقتور شخص سمجھا جاتا تھا۔
سوڈان ایک علاقائی پراکسی تنازع سونے کی کانوں پر کنٹرول
سودان میں متحدہ عرب امارات کی حمایت عموماً ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے حق میں سمجھی جاتی ہے، جو جنرل حمیدتی کی سربراہی میں سوڈانی فوج کے خلاف برسرپیکار ہے۔ امارات کے RSF سے قریبی تعلقات کی ایک بڑی وجہ سوڈان کی سونے کی کانوں پر اس گروہ کا کنٹرول اور سونے کی تجارت میں اماراتی مفادات ہیں۔
اس کے برعکس مصر اور سعودی عرب سوڈانی فوج کے حامی ہیں، جس سے سوڈان کی جنگ ایک علاقائی پراکسی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
سوڈان کی موجودہ صورتحال
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میںدرجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملے دانستہ اور منظم نسل کشی کا حصہ ہیں، جنہیں عالمی قوانین کے تحت جنگی جرائم قرار دیا گیا ہے۔
سوڈان ڈاکٹروں کے نیٹ ورک کے مطابق، الفاشر میں تباہی کے بعد صرف چار دنوں میں 62 ہزار سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جو اب شمالی سوڈان کے علاقے الضحبہ میں پناہ گزین ہیں، جہاں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی شدید کمی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دارفور کے دیگر علاقوں میں بھی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، جس سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
اقوام متحدہ نے ممکنہ تباہی سے خبردار کر تے ہوئے کہا ہے کہ سوڈان میں 3 کروڑ شہریوں کو بھوک اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ رہا، اقوام متحدہ نے اپیل کی ہے کہ دنیا بحران کے حل کیلئے انسانی بنیادوں پر توجہ دے۔
حالیہ دنوں ریاست شمالی ڈارفر میں جاری شدید لڑائی میں بڑے پیمانے پر انسانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ریاستی دارالحکومت الفاشر میں ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
اس علاقے میں واقع زمزم پناہ گزین کیمپ میں ایک سال قبل قحط کی تصدیق ہوئی تھی۔الفاشر آر ایس ایف کے محاصرے میں ہے جہاں سڑک کے ذریعے خوراک یا دیگر مدد پہنچانا ممکن نہیں رہا، ان حالات میں شدید بھوک نے جنم لیا ہے اور بڑے پیمانے پر قحط پھیلنے کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ اور یورپی ممالک نے سوڈان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بحرین میں ہونے والے *منامہ ڈائیلاگ سیکیورٹی سمٹ* میں برطانیہ، جرمنی اور اردن کے وزرائے خارجہ نے سوڈان میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں
امریکہ کی اسلام آباد سے پیار کی پینگیں جبکہ انڈیا سے دس سالہ دفاعی معاہدہ – urdureport.com
شاہ چارلس کے چھو ٹے بھائی اینڈریو سے شہزادے کا خطاب کیوں واپس لیا گیا – urdureport.com
برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا، “سوڈان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اجتماعی قتل، جنسی تشدد اور بچوں پر ظلم نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔”
جرمن وزیرِ خارجہ نے صورتحال کو "تباہ کن اور قیامت خیز” قرار دیا، جبکہ اردن کے وزیرِ خارجہ نے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی۔

