چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف دو شکایات پر کاروائی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اہم اجلاس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کی کثرت رائے سے منظوری دیتے ہوئے اسے سرکاری گزٹ میں شائع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر بھی اجلاس میں شریک ہوئے،
سپریم جوڈیشل کونسل کے جاری اعلامیے کے مطابق ضابطہ اخلاق میں ترامیم تمام اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ارسال کر دی گئیں جبکہ ترامیم کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
پنجاب کی جیلیں قیدیوں سے بھر گئیں،سانس لینے میں بھی مشکل – urdureport.com
توہین مذہب کے قوانین میں حفاظتی اقدامات شامل کر رہے ہیں۔اعظم نذیر تارڈ – urdureport.com
مزید بتایا گیا کہ کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر 67 شکایات کا جائزہ لیا، جس میں سے 65 شکایات متفقہ طور پر خارج، ایک مؤخر، ایک شکایت مزید کارروائی کے لیے منظور کی گئی۔
اجلاس کے دوران کونسل کو آئین کے آرٹیکل 209 بی تھری کے تحت دوبارہ تشکیل دیا گیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی عدم دستیابی پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ شامل اجلاس میں شریک تھے۔
اعلامیے کے مطابق دوبارہ تشکیل شدہ کونسل نے 7 شکایات کا جائزہ لیا، 5 شکایات متفقہ طور پر خارج کی گئیں، 2 شکایات پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا گیا جب کہ کونسل نے مجموعی طور پر 74 شکایات پر فیصلے دیے۔
اب تک زیرِ غور شکایات کی تعداد 87 ہے جبکہ اکتوبر 2024 سے 155 شکایات نمٹائی گئیں۔


