27ویں آئینی ترمیم پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللّٰہ نے بھی خط لکھ دیا ہے جس مین انہو ں نے بڑے کھلے انداز میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ اکثر طاقتور کے ساتھ کھڑی رہی، عوام کے ساتھ نہیں۔ بیرونی مداخلت اب کوئی راز نہیں، ایک کھلی حقیقت ہے۔ جو جج سچ بولتا ہے، وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا چیف جسٹس آف پاکستان سمیت سپریم کورٹ کے تمام ججز کو 7 صفحات پر مشتمل خط میں کہا کہ عدلیہ عوامی اعتماد کھو چکی۔

واضع رہے کہ گزشتہ روز جسٹس منصور علی شاہ نے بھی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا تھا تا ہم ابھی تک جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔
اپنے خط میں جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی عدلیہ کا ناقابل معافی جرم تھا، بےنظیر بھٹو، نواز شریف، مریم نواز کے خلاف کارروائیاں بھی ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ہونے والا سلوک اسی جبر کے تسلسل کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں
وزارت جنرل مشرف کی کرنی اور آئین کے مامے بن کر خط لکھنے۔خواجہ آصف کی ججوں پر تنقید – urdureport.com
تاحیات کسی کو تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے مفتی تقی عثمانی – urdureport.com
جسٹس اطہر من اللّٰہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو عوامی اعتماد حاصل کرنے پر نشانہ بنایا گیا، بہادر ججز کے خط اور اعتراف سپریم کورٹ کے ضمیر پر بوجھ ہیں، ہم سچ جانتے ہیں مگر صرف چائے خانوں میں سرگوشیوں تک محدود ہیں۔
سپریم کورٹ کے جج نے یہ بھی کہا کہ جو جج سچ بولتا ہے، وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے، جو جج نہیں جھکتا، اس کے خلاف احتساب کا ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔


