تحریر طارق اقبال چوہدری

آج طاقت کے نشے میں دھت حکمرانوں کو اپنا کل ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے جہاں قدرت کے بعد آذاد عدلیہ ہی ان کا واحد سہارا ہوتی ہے۔ایسی ہی ایک کہانی سپریم کورٹ کے سسر اور داماد جج نے دہرائی ہے جہاں دونوں نے ہی عدلیہ کے وقار اور آئین کی بالادست کو مقدم جانتے ہوئے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھنے والے جسٹس غلام صفدر شاہ انتقامی کارروائیوں کے باعث جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔جنرل ضیا الحق کے دور میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں سزا سنانے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ میں جسٹس صفدر شاہ بھی شامل تھے تاہم وہ ان اقلیتی ججز میں سے ایک تھے جنہوں نے سابق وزیر اعظم کو قتل کے اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔

یہ وہی جج جسٹس غلام صفدر شاہ تھے جن کو بھٹو کی رحم کی اپیل میں وکیل صفائی کے نکات کو زیر غور لانے کے بارے میں بی بی سی کے نمائندے سے گفتگو کے بعد نہ صرف سرکاری میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنا یا گیا بلکہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کیس دائر کیا گیا اور اخباروں میں ان کے خلاف خبریں اور کالم چھاپے گئے۔ ان کے خلاف پیش کی گئی چارچ شیٹ میں لکھا گیا کہ جسٹس شاہ نہ صرف دھوکے سے جج بنے بلکہ جج بننے کے بعد اپنے حلف کی خلاف ورزی بھی کی۔
جسٹس صفدر شاہ کی انٹرمیڈیٹ کی ڈگری کو لیکر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے انڈیا سے جو انٹر کا امتحان پاس کر کے جو ڈگری حاصل کی ہے وہ جعلی ہے ڈگری پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد جسٹس صفدر شاہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر بیرون ملک چلے گئے تھے
16 اکتوبر 1980 کو جسٹس شاہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے۔ اس کے بعد ایک آفیشل ہینڈ آؤٹ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جسٹس شاہ نے اپنی مرضی سے سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جسٹس شاہ صدر ضیاء کے عتاب سے تنگ آ گئے تھے۔ الزامات اور حکومتی کاروائیوں سے وہ اس قدر زچ ہوئے کہ 1980 میں ملک چھوڑ کر افغانستان چلے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

آج تقریباً نصف صدی گزری گئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو زرداری جہاں پر بھٹو کے عدالتی قتل کو سیاسی ہمدردی کے لیے استعمال کر تے ہیں،وہاں کبھی ان تین ججوں کو یاد نہیں کیا جنہوں نے پھانسی کے فیصلے کی مخالفت کی۔بھٹو کے نواسے کے ہاتھوں جب انہوں نے اپنے والد صدر زرداری کے لیے تا حیات استثنیِ لیا اور آئینی ترمیم میں ججو ں کے تبادلوں کی شق کو صرف چند ججوں کو فارغ کرنے کی غرض سے شامل کیا گیا جس کی پاداش میں ایک آذاد منش سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ کو بھی استعفیٰ دیکر گھر جانا پڑا۔
جسٹس اطہر من اللہ انہی جسٹس غلام صفدر شاہ کے داماد ہیں جنہوں نے بھٹو کے کیس میں حق اور سچ کا ساتھ دینے کی پاداش میں اس کا قرض چکایا اور آج ان کے داماد نے بھی آئین سے وفاداری کا حلف نبھایا اور بغیر کسی تردد کے بھاری مراعات اور عہدہ چھوڑ کر گھر چلے گئَے۔

اگر مسلم لیگ ن کو یاد ہو جن کے خلاف آج سیاست زدہ ججز ہونے کا راگ الاپ رہے ہیں تو یہ وہی جسٹس اطہر من اللہ تھے جنہوں نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت منظور کی جس پر کبھی ان کی زبان ان کی تعریفوں کے پل باندھتے نہ تھکتی تھیں۔
بی بی سی کے نمائندے سے بات کے بعد جسٹس صفدر شاہ کے اس بیان پر ان کے خلاف سرکاری میڈیا میں ایک زبردست مہم چلائی گئی اور روزنامہ جنگ کے اداریے میں لکھا گیا کہ "جسٹس صفدر شاہ کے لیے اب سپریم کورٹ میں بیٹھنا مناسب نہیں۔بالکل اسی طرح آج بھی وہی کردار سامنے ہیں ۔

6فروری1979کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں چار تین کے تناسب سے بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ سنایا گیا جن چار ججوں نے نواب احمد خان قتل کیس میں بھٹو کی نظرثانی اپیل کو مسترد کیا ان میں چیف جسٹس شیخ انوار الحق،جسٹس کرم الہی چوہان،جسٹس محمد اکرم اور جسٹس نسیم حسن شاہ شامل تھے اور چو تھے وہی جج تھے جنہوں نے بھٹو کیس میں دباو لینےکا بیان دیا،جبکہ جن تین ججوں نے بھٹو کو بری کیا ان میںجسٹس دراب پٹیل،جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ شامل تھے۔اگر اس وقت جج دباو نہ لیتے تو صورتحال آج مختلف ہوتی۔
آج جب 27ویں آئِنی ترمیم نے پورا عدالتی ڈھانچہ تبدیل کر کے رکھ دیا اور بھٹو کے نواسے اس میں پیش پیش رہے تو کم از کم اتنا ذہن میں ضرور رکھنا چاہیے کہ بھٹو کیس میں جسٹس غلام صفدر شاہ سمیت تین جج ایسے تھے جنہوں نے آمر کا جبر برداشت کر نے سے انکار کیا اور بھٹو کو بری کر نے بارئے کل سات میں سے چار تین کے تنا سب سے اپنا اقلیتی فیصلہ سنایا۔
اور اگر ایک دو ایسے آزاد جج اور مل جاتے تو شاید بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی اور آج سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس میں بھی یہ کہہ چکی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرایل نہ مل سکا،ایسا کیوں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ آذاد ٹرایل کے لیے کمپرومائز عدلیہ نہیں بلکہ آذاد عدلیہ کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن آج بھٹو کے نواسے نے اپنے ہاتھوں سے ان ججوں کو گھر بجھوانے کو ترجیح دی۔

جب مشکل دور اتا ہے تو ایسے آئین پسند ججز ہی جبر برداشت کر نے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور انصاف فراہمی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ورنہ آج شادیانے بجانے والوں کو یہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی کمپرومائز عدلیہ بارئے باتیں ضرور ذہین میں رکھنی چاہیں۔
یہ بھی پڑھیں
صدر نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے – urdureport.com
دو سینئر ججز کے استعفے — 27ویں آئینی ترمیم پر عدلیہ میں ہلچل اور متضاد ردعمل – urdureport.com
فیصلہ ان سیاسی سٹیک ہولڈرز کو خود کرنا ہے کہ ان کو جسٹس صفدر شاہ یا جسٹس نسیم حسن شاہ مین سے کس کی روایات کے ساتھ چلنا ہے۔

