صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے دو سینیر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔
جمعے کو ایوانِ صدر نے سپریم کورٹ کے دونوں ججز کے استعفوں کی منظوری کی تصدیق کی ہے۔
خیال رہے دونوں ججز نے گذشتہ روز 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف احتجاجاً اپنے استعفے صدرِ پاکستان کو ارسال کیے تھے۔
قبل ازیںسپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا، انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، 27ویں ترمیم نے ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی مستعفی ہوگئے۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ صدرِ پاکستان کو بھجوادیا۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا ہے کہ تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں
سابق اٹارنی جنرل لاء اینڈ جسٹس کمیشن سے مستعفی – urdureport.com
قومی اسمبلی سے بھی 27ویں آئینی ترمیم منظور،یحییٰ آفریدی بدستور چیف جسٹس آف پاکستان – urdureport.com
جسٹس اطہر من اللّٰہ کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم سے قبل، میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی، اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں

