خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے، جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نئی تحریک کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب اسمبلی بھی گئَےاور آج شام لبرٹی چوک پرعوامی اجتماع متوقع ہے۔
لاھور پہنچنے پر پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے وزیر اعلیٰ کی گاڑی پر پھول نچھاور کیے جب وہ پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کی رہائش گاہ پر پہنچے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کوٹ لکھپت جیل کا بھی دورہ کریں
راوی ٹول پلازہ سے گزرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرچہ انہیں لاہور میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے، تاہم ان کے ساتھ آنے والی کم از کم سات گاڑیوں کو روک لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ منڈی بہا الدین سے آنے والے پارٹی کارکنوں کو بھیرہ کے راستے لاہور جانے سے روک دیا گیا، سڑکیں بند کی گئیں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
ایک صحافی نے انہیں بتایا کہ میڈیا کی گاڑیوں کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوری حکومتیں اس طرح کے اقدامات نہیں کرتیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یہ نہیں سمجھ رہیں کہ ایسے اقدامات سے دو صوبوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران اُنھیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے
‘بند کرو اسے’لائیو شو کس نے زبردستی بند کرایا،احسن اقبال بول پڑے – urdureport.com
پی آئی اے کا مارچ سے لندن کے لیے بھی فلائیٹس شروع کرنے کا فیصلہ – urdureport.com
دورے کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مختلف سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ وہ صحافیوں اور طلبہ سے بھی ملاقات کریں گے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب اسمبلی بھی گئے جہا ں پر پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور اسی دوران مختلف مواقع پر جب صحافیوں نے ان سے سوالات کیے کہ اپ کو لاھور کیسا لگا اور یہ کہ اپ پر الزام ہے کہ سمگلنگ میں ملو ث ہیں تو سہیل آفریدی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار اپ لوگوں کو کیا وٹس اپ پر ایک ہی سوال آیا ہے۔
پنجاب اسملبی میں دورے کے دوران سہیل آفریدی کے ساتھ آئے دیگر اراکین اسمبلی کو روکنے پر تلخ کلامی بھی ہوئی۔

