گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ l پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائییلیی نیول فورسز ممکنہ طور پر آئندہ ایک گھنٹے کے اندر فلوٹیلا کی درجنوں کشتیوں کو روکنا شروع کر دے گی۔ اور ان پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ فلوٹیلا سے رابطے منقطع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق صمود فلوٹیلا کے ایک جہاز ’الما‘ سے براہِ راست دکھایا گیا ہے کہ وہاں نیوی کے اہلکار فلوٹیلا کے اراکین مداخلت کے انتظار میں بیٹھے ہیں، الما پر لائف جیکٹس پہنے کارکنان اور دیگر افراد روکے جانے کا انتظار کر رہے ہیں
فلوٹیلا اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن یاسمین آقار نے بتایا کہ بحری جہاز اب الما کو گھیرے میں لے رہے ہیں، وہ قریب آ گئے ہیں، ہم اپنی پوزیشن سنبھال رہے ہیں اور روکے جانے کے لیے تیار ہیں۔
فلوٹیلا 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ہے اور قافلے میں 500 سے زیادہ افراد سوار ہیں جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل
منتظمین کا کہنا ہے کہ فوجی قافلے میں شامل ایک کشتی میں داخل ہوگئے اور اس کے تمام ارکان کو حراست میں لے لیا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا امدادی سامان لے کر غازہ کی طرف گامزن ہے، فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر ہنگامی حالت کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا کے اراکین کو روکنے کے لیے فوج فلوٹیلا تک پہنچ گئی ہے اور اب فلوٹیلا کو راستہ تبدیل کرنے کا کہہ رہی ہے، فلوٹیلا کے اراکین کو خبردار کیا ہے کہ فلوٹیلا وار زون میں نہ داخل ہو
گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ نیوی ممکنہ طور پر آئندہ ایک گھنٹے کے اندر فلوٹیلا کی درجنوں کشتیوں کو روکنا شروع کر دے گی۔
اسرائییلیی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے فلوٹیلا کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایک فعال جنگی علاقے کے قریب آ رہے ہیں اور ایک قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ بحری جہازوں نے ہمیں نرغے میں لیا ہوا ہے اور پوری رات ڈرونز بھی ہم پر منڈلاتے رہتے ہیں لیکن ہم اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

