معروف نیوز کاسٹر لیجنڈ عشرت فاطمہ نے باالا خر پاکستان ٹیلی ویژن کے بعد ریڈیو پاکستان کو بھی خدا حافظ کہہ دیا۔
عشرت فاطمہ کو ایک لیجنڈ تصور کیا جاتا ہے لیکن انہو ں نے ریڈیو پاکستان کے چھوڑنے بارئَے ہوشربا انکشاف کیا ہے اور وہ یہ سب تلخ حقییقت بتاتے ہوئے آبدیدی ہو گئیں۔
انہو ں نے کہا کہ زندگی میں جو مقام کا حق ہے اور ملنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا مجھے بار بار احساس دلایا گیا کہ تم ہماری ضرورت نہیں ہو۔
انہو ں سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ پھر ایک مشکل اور بھاری دل کے ساتھ میں نے مشکل فیصلہ کای اور میں یہی سوچ رہی تھی کہ میں صیح ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اس ادارے نے مجھے عزت دی لیکن یہ ادارہ محسوس نہیں کرتا یہ بے حس ہیں یہ درودیوار ہیں۔اگر یہ محسوس کر سکتا ہوتا تو مجھے یہ ضرور روک لیتا مجھے یہ گلے لگا لیتا تو میں رک جاتی مگر افسوس یہ ادارہ درودیوار کا نام ہے۔
واضح رہے کہ عشرت فاطمہ 80ء ، 90ء اور 2000ء کی دہائی میں پی ٹی وی پر رات 9 بجے اردو خبرنامہ میں خبریں پڑھا کرتی تھیں، 2007 تک انہوں نے پی ٹی وی پر خبریں پڑھیں اس کے بعد انہیں ریڈیو پاکستان میں تعینات کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئیے
اوورسیز پاکستانیوں نے کتنے ڈالر بھجوائے،آئی ایم ایف کو بھی پچھاڑ دیا – urdureport.com
چین نے پاکستانی طلبہ کے لیے مکمل فنڈڈ سکالرشپس کا اعلان کر دیا – urdureport.com
عشرت فاطمہ نے آغاز ریڈیو پاکستان کے پروگرام’’کھیل اور کھلاڑی‘‘ کی میزبانی سے کیا تھا، شروع میں وہ پی ٹی وی پر موسم کا حال بتانے کے لیے منتخب ہوئی تھیں بعد ازاں ان کو خبریں سنانے کے چنا گیا،وہ اپنے ناک کے کوکے کی وجہ سےبھی مشہور تھیں،پھر وہ وائس آف امریکہ کابھی حصہ رہیں اورآج کل ریڈیوپاکستان سے حالات حاضرہ کاایک پروگرام کررہی ہیں۔

