خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود آج ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا گیا۔ اگر عدالتی احکامات نہیں مانے جا رہے تو یہ ہماری کمزوری نہیں ہے، یہ عدالتوں کی بے بسی ہے۔‘اس موقع پر انھوں نے واضح کیا کہ وہ عمران خان سے ملاقات اور ان کی ہدایات کے بغیر اپنی صوبائی کابینہ نہیں تشکیل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بطور صوبے کے چیف ایگزیکٹو عمران خان کے منشور اور نظریے پر عملدرآمد کریں گے، جبکہ احتجاج اور جلسے منعقد کرنا ان کی جماعت کا کام ہے۔
جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’احتجاج اور جلسے پارٹی اور تنظیم کا کام ہے۔ بطور پی ٹی آئی کارکن میں پارٹی کی طرف سے آنے والی ہدایات پر من و عن عمل کروں گا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے تھے لیکن عدالتی حکم کے باوجود انھیں ان کے لیڈر سے نہیں ملنے دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جیل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کروانے کا حکم دیا تھا۔
جمعرات کو عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کے عدالتی حکم پرعملدرآمد کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں
عمران خان کو بنی گالہ منتقل کر نے کی حکومتی تجویز – urdureport.com
کے پی کے بلٹ پروف گاڑیاں واپس ،طلال چوہدری کی تنقید – urdureport.com
عدالت کا کہنا تھا کہ عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ جو فہرست دیں گے اس میں شامل افراد کی ملاقاتیں لارجر بینچ کے فیصلے میں دیے گئے ایس او پیز کے مطابق کروائی جائیں۔

