پنجاب حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے 132 ’غیر اخلاقی‘ اور ’ذو معنی‘ گانوں پر سٹیج یا تھیٹر میں پرفارمنس پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی گانو ں کی لسٹ میں ملکو کا نک دا کوکا شامل کرنے پر ہو رہی ہے۔
ملکو نے یہ گانا سنہ 2023 میں اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیا تھا اور اس کی مقبولیت کے سبب گلوکار نے اس میں مزید مختلف بول بھی شامل کیے تھے، جن میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا بھی ذکر تھا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے 23 جنوری کو جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان گانوں پر پرفارمنس پر نجی و کاروباری دونوں قسم کی محفلوں میں پابندی عائد ہوگی۔حکومت کے مطابق نوٹیفکیشن میں درج یہ گانے نہ صرف ’غیر اخلاقی‘ ہیں بلکہ ان کے بول بھی ’ذو معنی‘ ہیں۔
حکومت نے حکام کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ سختی سے اس حکمنامے پر عملدرامد کو یقینی بنائیں۔تاہم سوشل میڈیا پر گلوکار ملکو کے گانے ’نک دا کوکا‘ کی موجودگی پر کیا جا رہا ہے، جو ان کے مطابق ایک ذو معنی گانا نہیں ہے۔
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے ان 132 گانوں بارئے کہا کہ آپ نے ان گانوں کے بول سنے ہیں؟ یہ کس طرح کے گانے ہیں اور ان پر کس طرح کی پرفارمنس ہو گی، میں تو ان کے بول پڑھ بھی نہیں سکتی۔‘
’ان گانوں کی شاعری اتنی فحش اور توہین آمیز ہے کہ انھیں گانے کہنا گانوں کی توہین ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ردِعمل
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین گلوگار ملکو کے گانے ‘نک دا کوکا’ کی فہرست میں موجودگی پر بھی اعتراض اُٹھانے پر دلچسپپ تبصرے کر رہے ہیں۔اسی کے باعث ملکو کو جون 2024 میں انھیں لندن جانے والی ایک پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا تھا۔
یہی گانا رواں برس جنوری میں قوال فراز امجد خان نے گایا تو ان پر بھی مقدمہ درج کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئِے
“اورحان غازی” سیزن 1 میں تاریخی فیصلے کی جھلک دکھائی دینے لگی – urdureport.com
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے طنزاً لکھا کہ ’اگر نک دا کوکا چلانے کی اجازت نہیں، تو پھر کون سا کوکا چلا سکتے ہیں؟ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’نک دا کوکا پر پابندی لگانے کی وجہ کیا ہے؟،انھوں نے پنجاب حکومت کو ’برداشت‘ بڑھانے کا مشورہ بھی دیا۔

