ایک نجی ٹی وی چینل کے لائیو پروگرام میں دو ٹک ٹاکرز کے درمیان شدید جھگڑا اور بال کھینچنے کا واقعہ وائرل ہو گیا۔ جس نے ایک بار پھر اس شو کی متنازع شہرت کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
یہ پروگروم سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
یہ پروگرام ماضی میں متھیرا کی میزبانی میں ہونے والے متنازع کلپس کی وجہ سے پہلے ہی تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ اب اس شو کی میزبانی یونس خان کر رہے ہیں، جو حالیہ دنوں میں لائیو نشریات کے دوران ہونے والے تنازعات اور گرما گرمی کی وجہ سے مسلسل خبروں میں رہ رہے ہیں۔
چند روز قبل ہی معروف کامیڈین ولی شیخ کے ساتھ لائیو شو میں ہونے والی مبینہ بے عزتی کا واقعہ وائرل ہوا تھا، جس پر ولی شیخ نے شدید مایوسی کا اظہار کیا تھا۔
تازہ ترین واقعے میں ٹک ٹاکرز عالیہ ستار اور آسیل لارنس کے درمیان بیک اسٹیج پر شدید تلخی پیدا ہو گئی۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بحث کے دوران عالیہ ستار نے غصے میں آ کر آسیل لارنس کے بال پکڑ لیے اور انہیں بدتمیزی نہ کرنے کا کہا۔
رپورٹس کے مطابق جھگڑے کی جڑ اس وقت پڑی جب آسیل نے الزام عائد کیا کہ عالیہ نے ان کا گانا شو میں چلنے نہیں دیا، جبکہ عالیہ نے جواب میں طنز کرتے ہوئے آسیل کو شو میں بیٹھنے پر طعنے دے ڈالے۔
معاملہ ہاتھ سے نکلتا نظر آیا تو سینئر میزبان عظمیٰ خان نے فوری مداخلت کی اور دونوں کو الگ کر کے ماحول کو پرسکون کرنے کی کوشش کی، مگر اس وقت تک واقعہ سوشل میڈیا پر طوفان بن چکا تھا۔
آن لائن ردعمل انتہائی منقسم اور سخت ہے۔ کئی صارفین نے اسے سستی شہرت اور ٹی آر پی حاصل کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا: “یہ سب ڈرامہ ہے، صرف شو کو وائرل کرنے کے لیے اسکرپٹڈ لڑائی کروائی گئی۔”
ایک دوسرے نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “آخر اس ملک میں ہو کیا رہا ہے؟” جبکہ کچھ نے شو پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کر دیا اور لکھا: “کمزور میزبان، کمزور شو۔”یونس خان کو بھی سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھئیے
ہانیہ عامر کےچہرے پر ’ڈمپلز‘ کی وجہ کیا نکلی – urdureport.com
مشہور ٹک ٹاکر علینہ عامر نے اپنی نازیبا لیک ویڈیو پر خاموشی توڑ دی،ردعمل وائرل – urdureport.com
ایک تبصرہ نگار نے لکھا: “بھائی، آپ کا شو ویسے نہیں چل رہا تو یہ ہتھکنڈے چھوڑ دیں۔” ایک اور نے طنز کیا: “یہی ہوتا ہے جب سڑک چھاپ لوگوں کو شو میں بلایا جائے۔”
یہ واقعہ نہ صرف ٹی وی انڈسٹری میں لائیو پروگراموں کے معیار پر سوال اٹھا رہا ہے بلکہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو مین سٹریم شوز میں لانے کے رجحان پر بھی بحث چھیڑ رہا ہے۔
ناظرین کا مطالبہ ہے کہ چینلز ایسی پروگرامنگ پر نظرثانی کریں جو تفریح کی بجائے تنازع اور بدتمیزی کو فروغ دے رہی ہو۔فی الحال نہ تو یونس خان اور نہ ہی متعلقہ ٹک ٹاکرز نے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے، البتہ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو تیزی سے شیئر ہو رہی ہے۔

