لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گرنے والی 10 ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش مل گئی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق 10 ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش آؤٹ فال روڈ کی سیوریج لائن سے ملی ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ریسکیو آپریشن 3 مختلف مقامات پر کیا گیا، آؤٹ فال روڈ، بھاٹی گیٹ اور موہنی روڈ پر ریسکیو آپریشن کیا گیا۔ریسکیو کی 10 گاڑیاں اور 25 ریسکیورز نے آپریشن میں حصہ لیا۔
دوسری جانب غفلت اور کوتاہی برتنے پر ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 3 افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
بھاٹی گیٹ لاھور کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی 24 سالہ خاتون کی لاش 3 کلومیٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد کر لی گئی،۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہلِ خانہ پہلے مینارِ پاکستان گئے اور بعد ازاں داتا دربار پہنچے۔ اسی دوران خاتون اپنی کمسن بچی کے ساتھ سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھی تھیں کہ اچانک دونوں نیچے گر گئیں۔
ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق ریسکیو کما نڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو شام 07:32 پہ ماں اور بیٹی کے سیوریج لائین میں گرنے کی کال موصول ہوئی۔ ایمرجنسی کی طرف فوری سرچ و ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئیں۔سرچ و ریسکیو آپریشن کو ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو شاہد وحید قمر کر رہے ہیں۔ترجمان ریسکیو کے مطابق آپریشن کے منطقئ انجام تک سرچ و ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس
لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو 24 گھنٹوں میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور کے علاقے داتا دربار کے سامنے ماں اور بچی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی خبر کو بے بنیاد قرار دے دیا تھا جو کہ درست ثابت نہ ہوا
یہ بھی پڑھئیے
لائیو ٹی وی شو میں ٹک ٹاکرز لڑ پڑیں ویڈیو وائرل – urdureport.com
ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہنشاندہی کی گئی جگہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں واقع ہے، جہاں انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی کھدائی کی جا چکی تھی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کے وقت علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، تاہم اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور چند ہی منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔

