چھ اکتوبر کی صبح سعودی عرب کی ایک جیل سے ابرار حسین کو اس کی والدہ کا فون آیا ، ’پُتر، میں جیل سے بول رہی ہوں۔ ہمیں جو گفٹ پیک دیے گئے تھے ان میں منشیات تھی۔ تحفے میں دیے گئے جوتوں کے تلووں میں بھی منشیات تھی۔‘
سعودی عرب میں یکم اکتوبر 2024 کو مفت عمرہ کرانے کے بہانے بھجوائے جانے والے پانچوں بزرگ ضعیف افراد کو سعودی عدالت نے منشیات سمگلنگ کے الزام میں 17 فروی 2025 کو پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دیا اس معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
اس کے علاوہ اس گروہ کے دو ارکان جنھوں نے گفٹ پیک کی شکل میں منشیات وصول کرنا تھیں، ان کو بھی سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر سزائیں سُنائیں۔
سعودی عرب میں مفت عمرے کے جھانسے میں لے کر جانے والے افراد میں نئیر عباس کے تین چھوٹے بچے ہیں اور خاندان کی کفالت کا کوئی اور سہارا نہیں ہے۔ زیارت بی بی اور انور بی بی کی عمریں اسی سال سے تجاوز کر چکی ہیں، اس کے علاوہ امام مسجد محمد ریاض اور اس کی بیوی شمیم بی بی کے دو بچے معذور ہیں۔
ادھر پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس واقعے کے بارے میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز 6 نومبر 2024 کو کیا اور انکوائری ٹیم نے تحقیقاتی رپورٹ میں تین افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی سفارش کی جس پر 20 جنوری 2025 کو صدام حسین شاہ، اسرار اللہ اور گل نواز خان نامی افراد کے خلاف تھانہ ایف آئی اے فیصل آباد میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
سعودی عرب میں قید پانچوں بزرگ قیدیوں کے ورثا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں تو ان کے پیاروں کو اب رہا کر دینا چا ہیے اس کے لیے انہو ں نے ولی عہد سعودی عرب محمد بن سلمان سے بھی انسانی ہمدری کی بنا پر ان کو رہا کر نے کی درخواست کی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابقوزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ان پانچ افراد کی رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ان کے مطابق اس سلسلے میں پاکستان میں موجود سعودی سفارت خانے کی وساطت سے سعودی حکومت کے ساتھ بات چیت بھی چل رہی ہے۔
واقعہ کے مطابق ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے ایک قریبی رشتہ دار نیئر عباس کے ہمراہ قریبی گاؤں کے امام مسجد محمد ریاض اور ان کی اہلیہ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے ان کو مفت عمرہ کرانے کے بہانے سعودی عرب پہنچایا گیا اور ائیر پورٹ پر ان کو زبردست سامان تھمایا گیا جس میں منشیات تھیں۔
اِن پانچوں افراد کے عمرے کا بندوبست مبینہ طور پر مقامی زمیندار صدام حسین نے کروایا تھا جنھوں نے نہ صرف عمرے کے اخراجات ادا کیے بلکہ پانچوں افراد کو اسلام آباد ایئر پورٹ بھی اپنے خرچے پر بھیجا۔
تقریباً ایک ہفتے بعد چھ اکتوبر کی صبح ابرار حسین کا فون بجا تو دوسری جانب اُن کی والدہ زیارت بی بی تھیں۔ ابرار کے مطابق اُن کی والدہ نے انھیں بتایا کہ ’پُتر، میں جیل سے بول رہی ہوں۔ ہمیں جو گفٹ پیک دیے گئے تھے ان میں منشیات (بعدازاں پتا چلا کہ یہ آئس تھی) تھی۔ تحفے میں دیے گئے جوتوں کے تلووں میں بھی منشیات تھی۔‘
پاکستان سے روانگی کے صرف ایک ہفتے بعد اِن پانچوں افراد کی سعودی عرب میں گرفتاری کی خبر ملنے پر اُن کے اہلخانہ ہکا بکا رہ گئے۔ اور اُن کی پریشانی اُس وقت مزید بڑھ گئی جب لگ بھگ پانچ ماہ بعد، 17 فروری 2025، کو ان تین خواتین سمیت پانچوں افراد کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں ایک سعودی عدالت نے پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھئیے
دنیا کے 10امیر ترین خاندان کون سے؟سعودی شاہی خاندان کی دولت اربوں ڈالر بڑھ گئی – urdureport.com
25 ضعیف خاتون زیارت بی بی کے بیٹے ابرار حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر خود الوداع کرنے جاتے لیکن اُن کا دعویٰ ہے کہ صدام حسین نے کہا کہ ’آپ لوگوں کو اسلام آباد آنے جانے کا خرچہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘
اُن کے مطابق صدام حسین نے انھیں بتایا کہ ’ہم اگر اِن کو ایصالِ ثواب کی نیت سے عمرہ کے لیے بھجوا رہے ہیں تو اسلام آباد میں اُن کو کوئی تکلیف پہنچنے نہیں دیں گے۔‘اسرار اللہ نامی شخص ان پانچوں افراد کو ایک گاڑی میں لے کر اسلام آباد روانہ ہوئے جہاں اُن کو ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔
اگلی صبح ان افراد کو گل خان نامی شخص ملا، جس کا تعارف صدام حسین کے دوست پر کروایا گیا۔ گل خان نے دعویٰ کیا کہ اس کے ہاں 20 برس بعد اولاد ہوئی ہے اور اسی لیے وہ عمرے پر جانے والوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور اُنھوں نے ان پانچوں افراد کو نئے جوتے، کپڑے اور کچھ گفٹ پیک دیے اور ان سے کہا کہ یہ گفٹ ان کے دوست جدہ ائیر پورٹ پر وصول کر لیں گے۔
جب یہ لوگ جدہ ائیرپورٹ پہنچے تو اُن کے سامان کی تلاشی لی گئی جس میں تمام پانچوں افراد کے سامان سے مجموعی طور پر پانچ کلو، 500 گرام منشیات (آئس) برآمد ہوئی جس کے بعد انھیں ائیرپورٹ پر ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
جس کے بعد یہ لوگ صدام حسین کے ڈیرے پر گئے تو صدام حسین نے کہا کہ فکر نہ کریں میں ان کو رہا کروا لوں گا لیکن اگلے دن صدام حسین بھی اپنے ڈیرے سے غائب ہو گیا۔
سعودی عرب میں یکم اکتوبر 2024 کو منشیات سمگلنگ کے الزام میں گرفتار ہونے والے ان پانچوں افراد کو ایک سعودی عدالت نے 17 فروی 2025 کو پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دیا۔
اس کے علاوہ اس گروہ کے دو ارکان جنھوں نے گفٹ پیک کی شکل میں منشیات وصول کرنا تھیں، ان کو بھی سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر سزائیں سُنائیں۔
ادھر پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس واقعے کے بارے میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز 6 نومبر 2024 کو کیا اور انکوائری ٹیم نے تحقیقاتی رپورٹ میں تین افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی سفارش کی جس پر 20 جنوری 2025 کو صدام حسین شاہ، اسرار اللہ اور گل نواز خان نامی افراد کے خلاف تھانہ ایف آئی اے فیصل آباد میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
صدام حسین اور اسرار اللہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل لاہور میں قید ہیں جبکہ ملزم گل نواز خان کو عدالت نے اشتہاری قرار دے کر اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
تفتیش کے مطابقاُن کے مطابق ملزمان نے ناصرف پانچوں افراد کے ویزوں کی فیسیں جمع کروائیں، ائیرلائن ٹکٹیں اپنے اکاؤنٹ سے خریدیں بلکہ تینوں ملزمان کے موبائل فونز کی سی ڈی آرز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیصل آباد سے روانگی سے لے کر متاثرہ فیملی کو ائیر پورٹ ڈراپ کرنے تک ان تینوں ملزمان کا آپس میں درجنوں بار رابطہ ہوا۔
