آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی بھارت اور بنگلہ دیش میں نیپاہ وائرس سے متعلق حالیہ پیش رفت اس وقت پاکستان کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال قومی سطح پر وبائی تیاریوں کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔

نیپاہ وائرس کے کتنے کیس رپورٹر ہوئے؟
صحافیوں کے ساتھ ایک میڈیا راؤنڈ ٹیبل کے دوران اے کے یو ایچ کے ماہرینِ متعدی امراض نے بتایا کہ 2025 کے بعد سے عالمی سطح پر نیپاہ وائرس کے صرف 10 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے صرف دو کیسز انسان سے انسان میں منتقلی کے تھے جو کہ ایک نہایت نایاب عمل سمجھا جاتا ہے۔
اے کے یو ایچ میں متعدی امراض کے پروفیسر اور ایسوسی ایٹ چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا” اگرچہ نیپاہ ایک سنجیدہ انفیکشن ہے،بین الاقوامی سطح پر پھیلاؤ کا خطرہ کم تصور کیا جاتا ہے۔
لیکن اس وقت پاکستان کے لیے فوری تشویش کا باعث نہیں۔ اس وقت ہماری صحت کی توجہ ملک کے اندر درپیش اہم چیلنجز پر مرکوز ہے، جن میں خسرہ کے کیسز میں حالیہ اضافہ بھی شامل ہے۔“
نیپاہ وائرس کیسے منتقل ہوتی ہے؟
ماہرین نے وضاحت کی کہ نیپاہ وائرس کی منتقلی کا بنیادی ذریعہ جانوروں سے انسانوں تک (زونوسِس) ہے جو متاثرہ چمگادڑوں سے براہِ راست رابطے یا ان سے آلودہ خوراک کے استعمال سے ہوتا ہے جیسے کچے درختوں کا رس یا پھل۔
انہوں نے واضح کیا کہ صرف چمگادڑوں کے قریب سے گزرنے یا ان کے آس پاس اُڑنے سے وائرس منتقل نہیں ہوتا۔
اے کے یو ایچ میں متعدی امراض کی سیکشن ہیڈ ڈاکٹر نوشین ناصر نے کہا” جغرافیائی طور پر حالیہ کیسز بھارت کی ریاستوں مغربی بنگال اور کیرالہ کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش تک محدود ہیں۔
نیپاہ کی ابتدائی علامات کیا ہیں
اہم بات یہ ہے کہ بھارت کے اُن مغربی علاقوں سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جو پاکستان سے متصل ہیں۔
تاہم چونکہ ابتدائی علامات مثلاً بخار اور سر درد انفلوئنزا سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں اور بعد میں دماغ کی شدید سوزش میں تبدیل ہو سکتی ہیں اس لیے طبی نگرانی برقرار رکھنا ضروری ہے۔ “
اے کے یو ایچ کے ماہرین نے زور دیا کہ مضبوط صحتی لچک ابتدائی تیاری، مؤثر ہم آہنگی اور مسلسل عوامی آگاہی سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ صرف ہنگامی ردِعمل سے۔
آج صحت کے نظام کی تیاری کو ترجیح دے کر پاکستان مستقبل کی عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے

